سفینہ کا خواتین کیلئے گریٹرریزرویشن کا مطالبہ

جموں //پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی خاتون ونگ کی صدر سفینہ بیگ نے خواتین کیلئے سیاسی اور انتظامی امور میں گریٹرریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ان اقدامات پر پیشرفت جاری رکھی جائے جو سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دور میں شرو ع کئے گئے تھے ۔جموں میں ایک  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سفینہ نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کو پارلیمان میں پیش کرنے سے قبل مسلم علماء اور ماہرین سے مشاورت کی جانی چاہئے تھی ۔ان کاکہناتھاکہ شادی ایک سیول معاہدہ ہے جسے پارلیمنٹ میں لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن اگراسے میز پر لایاگیاتو سزا سے زیادہ معاوضے پر توجہ دینے کی ضرورت تھی ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں خواتین کی ملکیت والی جائیداد سے سٹامپ ڈیوٹی ہٹانا ایک تاریخی اقدام تھا ۔سفینہ نے کہاکہ خواتین جموں وکشمیر میں افراتفری کی پہلی شکار ہیں لیکن تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ایک خاتون بنی جس نے خواتین کی بااختیاری کیلئے اہم اقدامات اٹھائے اور انہی اقدامات میں سے ایک خواتین کی ملکیت جائیداد سے سٹامپ ڈیوٹی ہٹاناہے ۔ان کاکہناتھاکہ اس فیصلے سے ریاست میں کنبوں کو خواتین کے نام پر جائیداد کے اندراج کا حوصلہ ملے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ بات قابل سراہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی اس اقدام کی تصدیق کی ہے ۔سفینہ نے کہاکہ ریاست میں نو فیصد کنبوں کی سربراہ خواتین ہیں اور 18سال سے کم عمر کے بچوں میں سے 11فیصد بچے ایسے ہیں جو والدین میں سے کسی ایک خاص طور پر والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔سفینہ نے کہاکہ ریاست میں خواتین کی شرح خواندگی 56.43جبکہ مرد شرح خواندگی 76.75فیصد رہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کی قیادت والی حکومت کے دورمیں خواتین کے دس ہزار سیلف ہیلپ گروپ بناکر انہیں روزگار سے جوڑاگیا جبکہ مہاتماگاندھی نریگا کے تحت 3.86لاکھ خواتین ورکروں کو روزگار فراہم کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ محبوبہ مفتی کے دور میںپہلی مرتبہ خواتین کیلئے مخصوص ایس آر ٹی سی بس سروس کا آغا ز ہوا اور مالی طور پر کمزور لڑکیوں و خواتین کی مددکیلئے آسرا سکیم شروع کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح سے لاڈلی بیٹی سکیم بھی شروع کی گئی جس کے تحت اکیس برس کی عمر ہونے پر لڑکی کوساڑھے چھ لاکھ روپے ملیں گے ۔اس موقعہ پر سرجیت کور، آر کے بالی ، رفیق ملک ، نیلم دیوی ، آر پی سنگھ، اجے رینہ ، بابر مغل ، شکیل احمد، جرنیل سنگھ تارا و دیگران بھی موجو دتھے ۔