ریاض/ بارسلونا کے طویل عرصے سے جاری مالی بحران کے حوالے سے ایک حیران کن اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے ، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اسپین کے مشہور فٹبال کلب ایف سی بارسلونا کو خریدنے کے لیے 10 ارب یورو کی پیشکش پر غور کر رہے ہیں۔ اگر یہ پیشکش حقیقت بن جائے تو نہ صرف بارسلونا کا تقریباً 2.5 ارب یورو کا قرض ختم ہو سکتا ہے بلکہ کلب کی پوری مالی سمت بھی یکسر تبدیل ہو جائے گی، تاہم عملی طور پر اس پیشکش کے سامنے کئی بڑی قانونی اور ساختی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اسپین کے معروف ٹی وی شو ایل چیرینگیتو میں صحافی فرانسوا گیلارڈو نے دعویٰ کیا کہ سعودی ولی عہد بارسلونا کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ پیشکش سعودی عرب کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے ذریعے عالمی کھیلوں میں اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے ۔ دعویٰ یہ بھی کیا گیا کہ 10 ارب یورو کی رقم بارسلونا کے قرض اتارنے کے ساتھ ساتھ ولی عہد کو کلب پر مکمل کنٹرول فراہم کر سکتی ہے ۔ تاہم اس دعوے پر فوری طور پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے کیونکہ بارسلونا قانونی طور پر کسی فرد یا ادارے کو فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ بارسلونا ایک “سوشیو ملکیت” ماڈل کے تحت چلنے والا کلب ہے ، جہاں ہزاروں ارکان کلب کے اصل مالک ہوتے ہیں اور وہی صدر کے انتخاب اور انتظامی فیصلوں میں اختیار رکھتے ہیں۔ اس نظام کے تحت نہ کوئی غیر ملکی سرمایہ کار اور نہ ہی کوئی مقامی کاروباری شخصیت کلب کو براہ راست خرید سکتی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ امکان یہی ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں کسی کمرشل بازو یا منصوبے میں سرمایہ کاری کی جائے ، مگر مکمل ٹیک اوور آئینی طور پر ناممکن ہے ۔