’’اتنی بھی جلدی کیاہے تمھیں۔ہم تو کل پہلی ہی فرصت میں اس کام کو انجام دیں گے‘‘۔’’ چلو یار دیکھا جائے گا، امتحان تو اگلے ماہ منعقد ہو نے والا ہے او ر تم ہو کہ خواہ مخواہ پریشان ہوتے ہو ‘‘۔’’ نیکیاں کرنے کے لیے ہم بھلا سنجیدہ کیوں ہو؟ پوری زندگی تو پڑی ہے ابھی۔ پہلے زندگی کی رعنائیوں کا ’’ مزہ‘‘ چکھتے ہیں اور پھر بڑھاپے میں نیکیوں کا دامن بھی تھام لیں گے‘‘۔
یہ ایسے جملے ہیں جو ’’ ہماری بستی‘‘ میں بسا اوقات ہمیں لوگوں کی زبانوں سے سننے کو ملتے ہیں۔یہ فقط ’’الفاظ‘‘ اور ’’ جملے‘‘ نہیں بلکہ یہ ہماری اُس منفی و ناقص سوچ کے غماز ہیں جو ہمیں پستی میں لے جانے کا سبب بنتے ہیں۔اپنے روز مرہ کے کاموں کو طول دینااب ہماری زندگی کا شعار بن چکا ہے۔ ہم بجلی کی بِل ادا کرنے کے لئے مہینہ کی آخری تاریخ ہی منتخب کرتے ہیں۔ کسی مریض کی عیادت کے معاملے میںہم قصداً یا غیر قصداً ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ،یہاں تک کہ مریض کا انتقال ہو جاتا ہے۔ جو کام ایک گھنٹہ میں انجام دیا جا سکتا ہے، اُسے ہم دنوں تک ، دنوں کے کاموں کو مہینوں اور مہینوں کے کاموں کو برسوں تک طول دیتے ہیں۔قصۂ مختصر آج ہم اکثر لوگ اپنی زندگیوں میں’’ سستی اور کاہلی‘‘ کا عملی نمونہ بن گئے ہیں۔
یہ سستی اور کاہلی آخر ہے کیا؟۔ ذرا سی کھوج و تحقیق کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل ایک قسم کا کینسر ہے جو انسان کے رگ و پے میں سرایت کر کے اُسے میدانِ مجاہدت میں جدو جہد کرنے سے باز رکھتا ہے۔ یہ ایک بُری لت ہے کہ جس پر سوار ہوجاتی ہے تو اس کو نکما اور نالائق بنا دیتی ہے۔ یہ انسان کے کاموں میں تعطل پیدا کر کے اُسے شکست خوردہ شخصیت بناتی ہے۔ یہ ایک عادت نہیں بلکہ ایک مرض ہے جو انسان کی خفیہ صلاحیتوں کو کھوکھلا کر کے اُس سے ترقی کے مواقع چھین لیتی ہے۔ یہ ایک’’ نفسیاتی کیفیت‘‘ ہے کہ کسی شخص کے گلے لگ گئی تو ’’ وفا‘‘ کا مجسمہ بن جاتی ہے۔ وہ اُس شخص کے ساتھ’’ جینے مرنے‘‘ کی قسمیں کھاتی ہے اور یوں وہ اُسے پوری زندگی کے لیے اپنا غلام بنا لیتی ہے۔ الغرض یہ ’’ سستی اور کاہلی‘‘ اولادِ آدم کی بدترین دشمن ہے کہ یہ اِسے فریب و دھوکے میں رکھ کر اُسے ’’ تعمیریت‘‘ کے محمود کام کو انجام دینے سے کلی طور روک لیتی ہے۔
دنیا میں ہر شخص کسی خاص میدان میں ترقی و درجات حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے ۔ وہ اپنی زندگی میں فتح و نصرت حاصل کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔ لیکن اِس خواب کا حصول کوئی آسان کام نہیںہوتا۔ ترقی کے اس پُر خطراور پیچیدہ راستے میں انسان جب کسی عمل کی جانب قدم رکھتا ہے تو نفس اُسے کھلے عام روکنے کے لیے ’’ سازشیں‘‘ کرتاہے۔ نفس اُسے یہ کہہ کر بہکاتا ہے کہ ’’ چلو یہ کام کل کر لینا پہلے آرام کرو، دوستوں سے وقت گزارو اور خوب مزے کرو، اتنی جلدی بھی کیا ہے۔‘‘پھر سینکڑوں کل آتے اور چلے بھی جاتے ہیں ۔ لیکن نفس کا وہ ’’ کل‘‘ کبھی ظہور پزیر نہیں ہوتا۔ نتیجتاً نفس کے اِس پُر فریب جال میںمبتلا ہوکر انسان سستی اور کاہلی کا شکار بن جاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر وہ ’’ یاس و حسرت‘‘ کا مجسمہ بن جاتا ہے۔
یہ سستی اور کاہلی ایسی رذیل شئے ہے کہ اس کا ارتکاب اگر باربار کیا جائے تو یہ انسان کی دائمی خصلت بن جاتی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان نت نئے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوستوں اور خیر خواہوں سے اس کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ نئے تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور ان تمام حالات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نالائق، نا اہل اورایک ناقابلِ اعتبار شخصیت کا مالک بن جاتا ہے۔
سستی اور کاہلی کی تباہ کاریوں کے بجز اِس کی وجوہات معلوم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔کافی غور و خوض کے بعد معلوم یہ ہوتا ہے کہ سستی اور کاہلی کے ارتکاب کی کئی وجوہات ہیں۔ لیکن ان تمام وجوہات میں جو سب سے بڑی وجہ ہے ،وہ ہے ’’ انسان کا اپنی زندگی کے بارے میں کسی واضح مقصدکا نہ ہونا۔‘‘ یہ سب وجوہات کی ’’ ماں‘‘ ہے کہ اِسی بڑی وجہ کے بطن سے دوسری ذیلی وجوہات جنم لیتی ہیں جو انسان کو اچھے اور بُرے ، خوبصورت اور بد صورت ، حق و باطل اور صلاح و فساد میںتمیز کرنے سے قاصر رکھتی ہیں ۔ اُس کی قو تِ فکر و ادراک میں کمی آجاتی ہے اور وہ وہم، تشویش اور ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
سستی اور کاہلی انسانی زندگی میں مادی طور پر تو نقصان دہ ہے ہی مگر دین کے معاملے میں یہ ایک خطرناک مرض کی صورت اختیار کرتی ہے۔یہ انسان کو خدا کی بندگی کرنے میں نکما بنا دیتی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ انسان خدا کی بندگی سے قولاً انکار نہیں کرتا ۔ لیکن سستی اور کاہلی اُسے عملاً خدا کی نافرمانی کامرتکب بنا دیتی ہے۔ ظاہر ہے یہ طرز عمل انسان کو دنیا و آخرت کی سعادتوں سے محروم کر دیتی ہے۔لہٰذا ہمیں فی الفور سنجیدگی کا دامن تھامناہے۔ ہمیں سستی اور کاہلی کی جگہ پھرتی اور چابک دستی کا لبادہ پہننا ہے۔غرضِ کلام یہ کہ ہمیں اپنی زندگی میں سستی اور کاہلی کو خیر باد کہہ کر تند ہی اور جانفشانی سے کام کرنا ہے کیونکہ ہمارے آقائے نامدار رسولِ رحمت ؐ اکثر یہ دعافرمایا کرتے تھے’’ اے اللہ ! میں سستی اور کاہلی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں‘‘۔