طارق شبنم
صبح کی فضا سورج کی کنواری کرنوں میں نہا رہی تھی ،خوب صور ت پھولوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے اور رنگ برنگے پرندے اپنے آشیانوں سے نکل کر مسحور کن آوازوں میں چہکتے ہوئے ماحول میں رس گھول رہے تھے ۔اس دلفریب منظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے پروفیسر عاشق حسین مہمان خانے سے نکل کر یونیورسٹی کے وسیع و عریض صحن میں ٹہلنے لگااور دانشگاہ کے مختلف شعبوں اور ہوسٹل عمارتوں کے گرد گھومتا رہا۔ قریب ایک گھنٹے تک چہل قدمی کرنے کے بعد عاشق حسین ،جو تنہا ئی پسند تھا ، آکر مہمان خانے کے سامنے بنے خوب صورت باغیچے میں لگی ایک کرسی پر دراز ہوگیا اوراپنے لئے ناشتہ وہیں منگا کر اخبارات کا مطالعہ کرنے لگا ۔عاشق حسین ایک قابل پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نامور ادیب اور شاعر بھی تھا جو اپنے شہر سے دور دوسرے شہر کی یونیورسٹی میں ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لئے آیا تھا ۔وہ رنگ بہ رنگے پھولوں سے سجے باغیچے میں بیٹھے اخبارات کا مطالعہ کرنے میں مدہوش ہو گیا اور سگریٹ پہ سگریٹ سلگا کر دھواں فضا میں بکھیرتا رہا یہاں تک کہ دانشگاہ میں لوگوں کا آنا جانا شروع ہو گیا۔
’’مہناز ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
وہ اسی کیفیت میں تھا کہ دفعتاً یونیورسٹی کے صدر دروازے ،جو باغیچے سے تھوڑی ہی دوری پرتھا، سے ایک خاتوں کے اندر داخل ہوتے ہی اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا ۔
’’ ابے عاشق اب تو تو دن میں بھی سپنے دیکھنے لگا ‘‘۔
اس کے اندر سے آواز آئی اور وہ سگریٹ سلگاتے ہوئے خود پر ہنسنے لگا۔
’’ ارے یہ تو واقعی مہناز ہے‘‘ ۔
خاتون ،جو اب اس کے نزدیک پہنچی تھی، کی طرف غور سے دیکھتے ہو ئے وہ دھواں فضا میں بکھیرتے ہوئے بڑ بڑایا۔اس دوران وہ خاتون اپنی ناک کی سیدھ میںچلتے ہوئے بغیر اس کی طرف دیکھے اس کے سامنے سے گزر گئی اور وہ مبہوت ہوکر اس کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ ایک ہوسٹل عمارت میں داخل ہوگئی ۔
’’یہ اس شہر میں کیسے ؟ کہیں یہ ۔۔۔۔۔۔‘‘
بڑ بڑاتے ہوئے اس نے ایک لمبی آہ کھینچی اور بیس سال پہلے کی حسین یادوں میں کھو گیا ۔وہ اور مہناز ایک ہی یونیوسٹی میں پڑھتے تھے ۔ پہلے پہل دونوں میں شناسائی ہوگئی لیکن جلد ہی یہ شناسائی پیار میں بدل گئی اور دونوں ایک دوسرے کو دیوانگی کی حد تک چاہنے لگے ۔تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ یونیورسٹی کے رنگین ماحول میں بادلوں پر چلتے ہوئے ستاروں سے باتیں کرنے لگے اور اپنے حسین خوابوں کے محل سجاتے رہے ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد دونوں نوکری کی تلاش میں لگ گئے اور روزگار ملتے ہی شادی کے بندھن میں بندھنے کا فیصلہ کرلیا ۔اس دوران مہناز نے ایک دن آشق کو اپنی سالگرہ کے موقعے پر مدعو کیا تاکہ اسے اپنے والدین سے ملاسکے ۔
’’ڈیڈی ۔۔۔۔۔۔ یہ عاشق حسین ہیں جن کے بارے میں میں آپ کو بتا چکی ہوں‘‘ ۔
تقریب کے دوران ہی مہناز نے عاشق کا تعارف اپنے والد سے کراتے ہوئے کہا ۔وہ بڑے ہی پرتپاک انداز میں عاشق سے ملا اور کچھ دیر تک اسے باتیں کرتا رہا ،جسے عاشق نے اس کی طرف سے رشتہ پکا سمجھ لیا اورتقریب ختم ہونے کے بعد میزبانوں سے اجازت لے کر خوشیوں میں جھومتے ہوئے واپس نکل گیا ۔کچھ دنوں بعد ہی عاشق کو سرکاری نوکری ملی اور وہ محکمہ تعلیم میں استاد تعینات ہوگیا،جس کے بعد اس نے اپنے والدین سے مہناز کا ذکر کرکے رشتہ طئے کرنے کے لئے ان کی رضا مندی بھی حاصل کرلی ۔ان دنوں عاشق کے قسمت کے ستارے جیسے چمک رہے تھے اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا ۔وہ اور مہناز تقریباً ہر روز ملتے تھے اور اپنی آنے والی زندگی کے خوابوں کے محل تعمیر کرتے تھے ۔اس دوران ایک دن ان دونوں کے درمیان معمولی تو تو میں میں ہوگئی اور بات یہاں تک بڑھ گئی کہ مہناز عاشق کو چھوڑ کر چلی گئی ، عاشق نے اُسے یہ سوچ کر نہیں روکا کہ چند دن میں اس کاغصہ ٹھنڈا ہوگا اور وہ خود ہی مجھ سے ملنے چلی آئے گی ۔ لیکن یاس و حسرت جیسے پھن پھیلائے ہوئے تھے ، دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے رہے لیکن نہ ہی مہناز اسے ملنے آئی اور نہ ہی اس کا کوئی پیغام ملا ۔عاشق کے لئے یہ ایک پریشان کن صورتحال تھی جب اس کے لئے انتظار کرنا دشوار ہوگیا تو ایک دن وہ بے چین ہوکر مہناز کے گھر تک پہنچا ۔لیکن وہاں اس کو تب بہت صدمہ پہنچا جب ان کے پڑوسیوں نے اسے کہا کہ وہ لوگ چند ہفتے پہلے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر تھے کہ وہ کہاں اور کیوں چلے گئے ۔
وہاں سے مایوس نکلنے کے بعد عاشق نے اپنے آپ کویہ سوچ کر تسلی دی کہ وہ کئی سیر وتفریح پر یا کسی رشتہ دار کے یہاں گئے ہونگے اور چند دنوں میں واپس آئیں گے۔ لیکن اس کی یہ امید بھی بھر نہیں آئی ۔ایک سال سے زیادہ وقت تک وہ مہناز کی تلاش میں شہر کی گلیوں کی خاک چھانتا رہا لیکن ناکام رہا، مہناز تو کیا اس کا کوئی اتہ پتہ بھی نہیں ملا ۔آخر تھک ہار کر اس نے اپنے پیار اور وعدوں کی لاج رکھنے کے لئے آخری وقت تک مہناز کا انتظار کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔بعد ازاں اس نے پی ۔ایچ ۔ڈی ۔کی ڈگری حاصل کی اور پروفیسر تعینات ہوگیا جب کہ کئی کتابیں تخلیق کرکے ادبی حلقوں میں کافی نام کمایا ۔آج بیس سال کے لمبے عرصے کے بعد مہناز کو دیکھ کر عاشق پر عجیب سی دیوانگی چھا گئی، اس کے اندر ایسی ہلچل مچی جیسے برسوں سے کائی جمی جھیل میں کسی نے بھاری پتھر اچھال دیا ہو ۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ کہاں کھوئے ہیں آپ ؟سیمینار کا وقت ہو رہا ہے‘‘ ۔
سوچوں میں غلطاں و پیچاں عاشق کی سماعتوں سے اس کے دوست ڈاکٹر حیدر کی آواز ٹکرائی ۔اس نے چونک کر گھڑی کی طرف دیکھا تو سیمینار شروع ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا ،وہ جلدی سے اٹھا اوراپنے کمرے میں داخل ہو کر گنگناتے ہوئے تیاری کرنے لگا ۔تیار ہو کر جب وہ واپس نکلا تو اس کے دوست اسے دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے کیوں کہ آج اس نے پہلی بار اپنے آپ کو اتنا سجایا سنوارا تھا کہ اسے پہچاننا مشکل ہو رہا تھا ۔ کلین شیو،چہرے پر ہلکا سا میک اپ اور روکھے روکھے اُلجھے بالوں کونہایت ہی قرینے سے سنوارنے کے علاوہ اس نے نیا سوٹ اور نک ٹائی بھی پہنی تھی ۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ آج اس قدر سجنے سنورنے میں کیا راز ہے ؟‘‘
اس کے دوستوں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا ۔
’’سیمینار میں جانا ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔ وہاں بیسیوں جان پہچان والے ملتے ہیں‘‘ ۔
اس نے مختصر سا جواب دیا ۔جب وہ سیمینار ہال میں پہنچا تو ہال مرد وزن سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جب کہ مہنازبھی سامنے والی لائین میں کرسی پر براجماں تھی ،منتظمین نے عاشق کو بھی اسی لائین میں مہناز کے نزدیک ہی ایک کرسی پر بٹھایا لیکن مہناز نے کوئی رد عمل نہیںدکھایا جو عاشق کو سخت ناگوار گزرا ۔تھوڑی دیر بعد جب اینکرنے عاشق حسین کا مختصر تعارف پیش کیا اور اسے سیمینار کی صدارت سونپتے ہوئے ایوان صدارت میں آنے کی گزارش کی تو مہناز چونک کر اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے یوں مسکرائی جیسے گل لالہ شبنم کی پہلی بوند پر کھل اٹھتا ہے ،جس کے ساتھ ہی مسرت کی ایک بھر پور لہر اس کے پورے جسم میں سرائیت کر گئی ۔ بعد ازاںمہمانوں کا استقبال کرنے والے میزبان نے جب خاص طور پر ڈاکٹر مہناز کا نام بھی لیا تب جا کے آشق کو پتہ چلا کہ وہ اسی یونیورسٹی میںبحیثیت پروفیسر تعینات ہے ۔ پوری تقریب کے دوران مہناز عاشق کو تکتی رہی ، ہر لمحہ کے ساتھ اس کی بے چینی بڑھتی ہی رہی اور عنابی ہونٹوں پر خاموشی کا غبار سا چھایا رہا جب کہ عاشق کوبھی سیمینار ہال کی چار دیواری سانپ بن کر ڈسنے لگی۔ وہ یہ جاننے کے لئے بے تاب ہورہا تھا کہ آخر مہناز نے کس بات پر اسے اتنی بڑی سزا دی ۔ساتھ ہی وہ مہناز،جس کا حسن و شباب ابھی برقرار تھا، کو کن اکھیوں سے چھپ چھپا کردیکھتا رہا ۔
’’وہی دھلا دھلا تازہ گلاب سا چہرہ ۔۔۔۔۔۔ گالوں پہ شفق کھلے ۔۔۔۔۔۔ وہی لمبے ریشمی بال ۔۔۔۔۔۔ بڑی بڑی مخمور آنکھیں جن میں جیسے کنول کے پھول تیرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پتلے پتلے ہونٹوں پر گلاب کی پتیان بکھری۔۔۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں مہناز کے سحر انگیز حسن کی رنگینیوں میں کھویا تھا کہ دفعتاً صدارتی خطبے کے لئے اسے ڈائیس پر آنے کی دعوت دی گئی ۔
معزز خواتین و حضرات ۔۔۔۔۔۔ آج کی یہ پر وقار تقریب میری زندگی کی سب سے زیادہ اہم اور یاد گار تقریب رہے گی ۔عاشق نے اپنا مختصر صدارتی خطبہ سمیٹتے ہوئے منتظمین کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ۔تقریب ختم ہونے کے بعد مہمان جانے لگے تو عاشق ،مہناز سے دو باتیں کرنے کی شدید تڑپ کے با وجود ،بوجھل قدموں سے مہمان خانے کی طرف جانے لگا ،کیوں کہ انا کا بے لگام گھوڑاآڑے آیا۔
’’تم مجھ سے نہیں ملوگی تو پھر سورج طلوع نہیں ہوگا کیا؟۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی تم کوئی جنت کی حور نہیں ہو‘‘ ۔
عاشق کے یہ آخری الفاظ تھے جو مہناز نے سنے تھے اور زہر میں بجھے تیروں کی طرح اس کے جگر میں پیوست ہوئے تھے، اور ان کو یاد کرتے ہوئے اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ان ہی الفاظ کی وجہ سے وہ اپنے ڈیڈی،جو کچھ عرصہ سے اپنے کاروبار سمیت دوسرے شہر منتقل ہونا چاہتا تھا، کے ساتھ جانے کے لئے راضی ہو کر جدائی کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوئی تھی ۔ اس بار بھی یہ الفاظ ہتھوڑی کی طرح کھٹ کھٹ اس کے کانوں میںبج رہے تھے لیکن وہ ضبط نہیں کرسکی اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوئے عاشق کے پیچھے پیچھے چلنے لگی ۔
’’ سنیے ۔۔۔۔۔۔سنیے ذرا۔۔۔۔۔۔‘‘
دفعتاً ایک خوابدیدہ آواز سن کر عاشق چونک کر پیچھے کی طرف مڑا تو مہناز اس کے بالکل قریب تھی ۔
’’کیسے ہو ڈاکٹر صاحب ؟‘‘
’’سانسیں چل رہیں ہیں مہناز صاحبہ‘‘ ۔
’’شکر ہے آپ نے مجھے پہچانا‘‘ ۔
مہناز نے کہا تو پھر دونوں طرف خاموشی چھا گئی ۔
’’ساتھ میں اور کون کون ہے ؟‘‘
چند منٹ کی خاموشی کے بعد مہناز گویا ہوئی ۔
وہی تنہائی جس نے کبھی ساتھ نہیں چھوڑا ۔
’’کیوں؟کوئی جنت کی حور نہیں ملی ۔۔۔۔۔۔ ؟‘‘
مہناز نے طنز کرتے ہوئے کہا ۔
’’ اپنے وعدوں کی لاج رکھتے ہوئے جوانی کے قیمتی دن ہاتھ سے سرکتی ریت کی طرح گزر گئے لیکن؟ ۔۔۔۔۔۔ خیر ۔۔۔۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں یہ آنسوں کیوں؟‘‘
’’ یہ آنسوں میرے محبت کے رازدار اور میری وفا کے گواہ ہیں‘‘۔
مہناز نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا تو دونوں کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرنے لگے اور وہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کچھ دیر گلے شکوے کرنے کے بعد فرط نشاط و انبساط میں جھومتے ہوئے مہمان خانے کی طرف چل پڑے۔
���
جس بانڈی پورہ 193502 کشمیر
موبائل نمبر;9906526432
[email protected]