سرکس

رنگ ماسٹر نے ایک بار پھر پوری قوت سے زمین پر چابک مارا۔ آہنی پنجروں میں تمام نیم مردہ جانوروں میں حرکت آگئی اور ساتھ ساتھ شامیانے کی ڈھیلی پڑی طنابیں بھی تن گئیں۔ چہرے پر گیروی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئےرنگ ماسٹر نے سامنے آہنی پنجروں میں دو پائے جانوروں کی طرف غور سے دیکھا اور قدرے زور سے دوسرا چابک زمین پر مارا ۔۔۔  چابک کی آواز سنتے ہی تمام رو پائے، چوپائے جانور آہنی پنجروں سے نکل کر رنگ ماسٹر کے اردگرد جمع ہوگئے۔
’’ نیا’کھیل ‘ شروع ہونے والا ہےچولے بدل ڈالو کوئی آئینہ نہ دیکھے تمہارا آئینہ میں ہوں ‘‘کہتے ہوئے رنگ ماسٹر بیچ میں آویزاں ایک لمبی سیڑھی پرچڑھ گیا۔
تمام دو پائے، جانوروں میں، چولے بدلتےہی، اچانک مردار کھانے کی شدت سے طلب جاگی۔
  " کھیل شروع ہوتے ہی تمہارے لیے مردار کھانے کے تمام دروازے کھل جائیں گے، تمہاری برسوں کی ساریبھوک مٹ جائے گی "۔۔۔انہیں مخاطب کرتے ہوئے رنگ ماسٹر سیڑھی سے اتر کر پھر ان کے درمیان کھڑا ہوگیا
" کھیل شروع ہونے والا ہے سب کچھ بھول کر صرف میرے ہاتھ میں چابک کی طرف دیکھو "کہتے ہوئے رنگ ماسٹر نے چابک کو ہوا میں لہرایا، چابک لہراتے ہوئے رنگ میں رکھے بڑے آئینے پر پڑے پردے کو بھی چُھو گیا پردہ نیچے گر گیا دو پائے، جانوروں نے آئینے کی طرف دیکھا وہ سب سُوَر بنے ہوئے  تھے ۔۔۔۔ ! 
سرینگر، کشمیر،9797946911