سرینگر// ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر اور لداخ میںاس سرکاری اراضی کی تفصیلات مانگی ہیں جن پر مذہبی ڈھانچے غیر قانونی طور پرتعمیر کئے گئے ہیں یہاں تک کہ ان تجاوزات کو ہٹانے کیلئے سخت کارروائی’’ متوقع‘‘ ہے۔ عدالت کی جانب سے 3 ستمبر 2020 کے اپنے حکم کے مطابق جموں ، کشمیر اور لداخ کے ڈویڑنل کمشنرز سے تفصیلات جمع کرانے کی توقع کی جا رہی تھی۔ چیف جسٹس پنکج متھل اور جسٹس سنجے دھر پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے یکم اکتوبر تک معلومات مانگی۔ گزشتہ سال 3 ستمبر کو عدالت نے ڈویڑنل کمشنرز کو ہدایت کی تھی کہ وہ تمام ڈپٹی کمشنروں سے ایسی رپورٹیں حاصل کریں جو سرکاری زمین پر تمام مذہبی ڈھانچے ، تجاوزات کا مقام ، تجاوزات کا علاقہ اور تجاوزات کی تفصیلات بتائے۔عدالت نے کہا تھا کہ چھ ہفتوں کے اندر معلومات کی تعمیل کی جائے اور اسے جموں و کشمیر اور لداخ کے چیف سکریٹریز کے سامنے رکھا جائے ، جو متعلقہ مجاز حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد 9 نومبر تک عدالت کے سامنے رکھنے کا پالیسی فیصلہ کریں گے۔عدالت نے از خو عوامی مفاد کی درخواست کی سماعت کے دوران کہا’’لیکن آج تک کوئی معلومات عدالت کے سامنے نہیں رکھی گئی‘‘۔ عدالت نے اپنی رجسٹری سے کہا کہ وہ اسی طرح کی ایک پی آئی ایل کی تفصیلات معلوم کرے جو کہ جموں ونگ کے سامنے زیر التوا ہے اور اسے موجودہ درخواست کے ساتھ ٹیگ کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل ڈی سی رائنا نے عدالت کو بتایا کہ وہ تجاوزات کی ضروری معلومات اکٹھا کر رہا ہے جس میں صوبہ جموں کی تفصیلات شامل ہیں اور اسے یکم اکتوبر تک پیش کر دیں گے۔عدالت نے اے جی رائنا اور ٹی ایم شمسی ، اے اسسٹنٹ سولسٹر جنرل کو مرکزی علاقہ لداخ کے لیے پیش ہونے کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دیا تاکہ مطلوبہ معلومات اس تاریخ سے دی جائے جس دن اس نے اپنا حکم دیا تھا۔ اس دوران حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوامی مقامات سے تمام مذہبی غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کے لیے سخت کارروائی کریں گے۔