عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پیپلز کانفرنس کے صدر اور ایم ایل اے ہندوارہ، سجاد لون کی جانب سے طویل عرصے سے اجاگر کی جانے والی علاقائی عدم مساوات کو اب سرکاری اعداد و شمار نے باقاعدہ طور پر درست ثابت کر دیا ہے۔ حکومتی ڈیٹا کے مطابق جموں و کشمیر میں فلاحی اور ریزرویشن سرٹیفکیٹس کی تقسیم میں ایک نمایاں ادارہ جاتی عدم توازن پایا جاتا ہے، جو واضح طور پر جموں ڈویژن کے حق میں ہے۔سجاد لون کی جانب سے پیش کی گئی کٹ موشن کے جواب میں جموں و کشمیر حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں مصدقہ سرکاری اعداد و شمار پیش کیے، جن سے یہ انکشاف ہوا کہ تقریبا تمام زمروں میں سرٹیفکیٹس کی تقسیم منظم انداز میں اور غیر متناسب طور پر جموں ڈویژن کے حق میں کی گئی ہے۔ شیڈولڈ ٹرائب (ST) سرٹیفکیٹس کے معاملے میں جموں میں 6,93,781 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جو مجموعی تعداد کا 92 فیصد سے زائد بنتا ہے، جبکہ کشمیر میں محض 56,189 سرٹیفکیٹس جاری ہوئے، جو بمشکل 7 فیصد ہیں۔شیڈولڈ کاسٹ (SC) سرٹیفکیٹس میں عدم توازن مزید شدید نظر آتا ہے، جہاں جموں میں 1,39,664 سرٹیفکیٹس (تقریبا 99 فیصد) جاری ہوئے، جبکہ کشمیر کا حصہ صرف 1,755 رہا۔اصل لائن آف کنٹرول (ALC) سرٹیفکیٹس میں بھی یہی رجحان سامنے آیا، جہاں جموں میں 6,732 کے مقابلے میں کشمیر میں صرف 460 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
بین الاقوامی سرحد (IB) سرٹیفکیٹس کے معاملے میں عدم مساوات مکمل طور پر واضح ہے، جہاں جموں میں 3,690 سرٹیفکیٹس جاری ہوئے جبکہ کشمیر میں ایک بھی نہیں۔اقتصادی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے اعداد و شمار بھی اسی سمت کی تصدیق کرتے ہیں، جہاں جموں میں 43,136 سرٹیفکیٹس (91 فیصد سے زائد) جاری کیے گئے، جبکہ کشمیر میں صرف 4,099۔دیگر پسماندہ طبقات (OBC) میں اگرچہ فرق نسبتا کم ہے، تاہم یہاں بھی جموں کو برتری حاصل ہے، جہاں 78,324 سرٹیفکیٹس کے مقابلے میں کشمیر میں 52,652 سرٹیفکیٹس جاری ہوئے۔صرف ریزروڈ بیک ورڈ ایریا (RBA) سرٹیفکیٹس میں دونوں خطوں کے درمیان تقریبا برابری دکھائی دیتی ہے، جہاں جموں میں 50,982 اور کشمیر میں 49,866 سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔یہ اعداد و شمار اب باضابطہ طور پر قانون ساز ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں، جس سے وہ باتیں بلا شبہ ثابت ہو گئیں جو پہلے محض سیاسی بیان بازی قرار دی جاتی تھیں۔سجاد لون نے کہا، جسے کبھی ذاتی تاثر یا جماعتی شکایت سمجھ کر نظرانداز کیا گیا، وہ اب ناقابلِ تردید، دستاویزی حقیقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔سجاد لون نے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سطح پر جامع مداخلت اور ادارہ جاتی احتسابی نظام ناگزیر ہے، تاکہ فلاحی سہولیات اور آئینی تحفظات تک رسائی میں موجود اس منظم علاقائی امتیاز کا ازالہ کیا جا سکے۔