عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//ماونٹین ریسرچ سینٹر فار فیلڈ کراپس ، کھڈونی نے سرسوںاورتِلہن ڈے تقریب کے ساتھ منایا، جس میں کولگام اور اننت ناگ کے سائنسدانوں، افسران اور کاشتکاروں نے شرکت کی۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی اور مہمان خصوصی کے طور پر ڈپٹی کمشنر کولگام شہزاد عالم نے تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ سینئر یونیورسٹی افسران، KVKکولگام و اننت ناگ کے سربراہوں، سکاسٹ کے سائنسدان اور محکمہ زراعت کے افسران بھی موجود تھے۔وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں کہا کہ MRCFCکھڈونی نے 1942 سے اہم سائنسی خدمات انجام دی ہیں۔
اس مرکز نے دھان، گندم اور تِلہن میں کئی نئی اقسام متعارف کرائیں اور پیداوار و تحفظ کی مکمل ٹیکنالوجیز فراہم کیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت کشمیر میں دھان کی پیداوار 1960کی دہائی میں فی ہیکٹر 1 ٹن سے بڑھ کر آج تقریبا 10 ٹن ہو گئی ہے، جسے انہوں نے تاریخی کامیابی قرار دیا۔پروفیسر گنائی نے سرسوں کی خاص اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ صرف وادی میں مخصوص زرعی حالات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ان کے بقول، بیجوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے تِلہن کی پیداوار 8سے 12کوئنٹل فی ہیکٹر تک بڑھ گئی ہے اور زیر کاشت رقبہ پچھلے پانچ سال میں 38ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر 1.1لاکھ ہیکٹر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ بہتر ٹیکنالوجیز اپنائیں، بیج کی پیداوار بڑھائیں اور آئندہ دو سال میں خوردنی تیل کی درآمدات میں 25کمی لائیں۔ڈپٹی کمشنر، شہزاد عالم نے تحقیقاتی پروگرام، 20تجربات اور تقریبا 150جینوم لائنز کے بارے میں بریفنگ لی۔