سرینگر// جموں کشمیر میں کئی برسوں کے بعدماہ رمضان میں حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحدیں فی الحال خاموش ہیں اور سرحدی بستیوں میں لوگ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔25فروری 2021 کو ہند پاک ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزکی جانب سے جنگ بندی معاہدے سمیت دیگر تمام معاہدوں پر سختی کے ساتھ اطلاق کرنے پر اتفاق کے بعد سرحدیں خاموش ہیں ۔سرحدوں پر دونوں اطراف کی بندوقیں خاموش ہونے کے بعد طویل عرصے کے بعد ماہ رمضان کے مقدس ایام میں سرحدی بستیاں پرسکون نظر آرہی ہیں۔ 22فروری کے بعد کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر دونوں ملکوں کی جانب سے ایک بار بھی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ پچھلے لگ بھگ 2مہینوں سے سرحدیں مکمل طور پر خاموش ہیں حالانکہ تاہم گزشتہ برس اس عرصے کے دوران قریب464بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔ سال2020 کے فروری مہینے کی 22تاریخ کے بعد فائر بندی خلاف ورزی کے کچھ واقعات رونما ہوئے جبکہ مارچ 2020کے مہینے میں میں411 اور اپریل میں53بار سرحدوں پر گولیوں کی گن گرج اور گولہ باری کے واقعات رونما ہوئے۔ 2021کے ماہ جنوری اور 21فروری تک66بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئیں ۔ سال کے پہلے ماہ جنوری میں 44 اور 21 فروری تک22بار شلنگ ہوئی۔اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال2018کے بعد سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی میں اضافہ ہوا۔ 2018میں جہاں سال بھر2140 بار سرحدوں پر شلنگ کے واقعات رونما ہوئے وہیں2019میں3479اور سال2020میں سب سے زیادہ5133بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔کرناہ اور اوڑی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار ماہ رمضان میں طویل عرصے کے بعد خوف محسوس نہیں کررہے ہیں۔ پونچھ اور راجوری کے سرحدی دیہات میں تباہ کن صورتحال رہی ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے سرحدی آبادی کا سکھ چین چھن گیا ہے لیکن اب پہلی بار انہیں کچھ حد تک راحت محسوس ہورہی ہے۔چرنڈہ اوڑی سے تعلق رکھنے والے ماسٹر منظور نے کہا کہ قریب ایک دہائی کے بعد وہ امسال کا ماہ رمضان کافی سکون سے دیکھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے دوران سرحدوں پر ماہ رمضان کے دوران بھی دونوں اطراف سے گولیوں کا تبادلہ جاری رہتا تھا،جس کے نتیجے میں مقامی آبادی خوف و ہراس میں مبتلا رہتی تھی۔