یواین آئی
سرینگر// نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) نے سراج العلوم ویلفیئر فاؤنڈیشن کے لیے ایک عبوری لیکویڈیٹر مقرر کرتے ہوئے ادارے کو اپنے اثاثے فروخت یا منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔ ٹریبونل نے مشاہدہ کیا کہ بادی النظر میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے کو “ہندوستان کی خودمختاری، سلامتی اور سالمیت کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں” کے لیے استعمال کیا گیا۔این سی ایل ٹی کی چنڈی گڑھ بنچ نے 11 جون کو یہ حکم رجسٹرار آف کمپنیز (آر او سی)، جموں و کشمیر اور لداخ کی جانب سے کمپنیز ایکٹ کی دفعات 271 اور 272 کے تحت دائر درخواست پر جاری کیا، جس میں سیکشن 8 کمپنی کو تحلیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ٹریبونل نے حکم دیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے منسلک سرکاری لیکویڈیٹر فوری طور پر کمپنی کے معاملات، اثاثوں، بینک کھاتوں، مالیاتی ریکارڈ اور دستاویزات کا کنٹرول سنبھالے ، جب تک مزید کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی۔
ٹریبونل نے کمپنی کے ڈائریکٹروں اور عہدیداروں کو 30 دن کے اندر اثاثوں اور واجبات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔یہ کارروائی جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں سراج العلوم کو غیر قانونی تنظیم قرار دینے کے بعد کی گئی ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے ) کے تحت کارروائی کا سامنا کرنے والا یہ جموں و کشمیر کا پہلا دینی مدرسہ ہے۔ حکام کا الزام ہے کہ ادارے کے کالعدم جماعت اسلامی کے ساتھ خفیہ روابط تھے ، جبکہ اس پر قانونی، انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں اور انتہاپسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔مدرسے پر پابندی کے بعد شوپیاں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے ، جہاں سینکڑوں طلبہ اور والدین نے ادارہ دوبارہ کھولنے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔این سی ایل ٹی کے حکم کے مطابق یہ معاملہ جموں و کشمیر پولیس کے سی آئی ڈی کی ایک رپورٹ سے شروع ہوا، جس میں فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کو اس کے اعلانیہ مقاصد کے خلاف، دھوکہ دہی پر مبنی اور ہندوستان کی خودمختاری و سالمیت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا تھا۔سی آئی ڈی رپورٹ کے بعد وزارتِ کارپوریٹ امور کے ڈائریکٹر جنرل آف کارپوریٹ افیئرز نے مارچ میں ایک مراسلے کے ذریعے ریجنل ڈائریکٹر (این آر-II)، چنڈی گڑھ کو کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 272 کے تحت ادارے کو بند کرنے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی ادارے کے ڈائریکٹروں اور اہم انتظامی اہلکاروں کے اثاثے منجمد اور ضبط کرنے کے اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ٹریبونل نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ دستیاب ریکارڈ سے بادی النظر میں ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپریل 2025 میں “ادارے کو اس کی سابقہ شکلوں میں سکیورٹی کلیئرنس سے محروم کیے جانے کے فوراً بعد” قائم کی گئی تھی، جبکہ عملی انتظام مبینہ طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے ہاتھ میں ہی رہا۔حکم میں مزید کہا گیا کہ انتظامیہ نے حکام کے سامنے اپنی وضاحتوں میں اعتراف کیا کہ ریکارڈ اور سرگرمیاں سیکشن 8 کمپنی کے ساتھ ساتھ پرانے ٹرسٹ اداروں کے ناموں پر بھی چلائی جاتی رہیں، جسے ٹریبونل نے نگرانی سے بچنے کے لیے شناختوں کے دانستہ اختلاط اور ابہام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔اس معاملے کی اگلی سماعت 13 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔