ساولا کوٹ پن بجلی پروجیکٹ کے اپروچ ٹنل پر ہڑتال سے چھ روز سے کام ٹھپ | جوائنٹ ونچرکے بعد کام کاج میں گراوٹ، جنوری 2020 سے اب تک کوئی رقم واگذار نہ ہوئی،ٹھیکیدار پریشان

بانہال //ضلع ہیڈ کواٹر رام بن سے تیس کلومیٹر دور ٹنگر کے علاقے میں تقریباً 22000 کروڑ روپئے کی لاگت سے 1856 میگاواٹ کی صلاحیت والے پن بجلی پروجیکٹ پر پچھلے چاربرسوں سے ابتدائی کام جاری ہے اور اب اس پروجیکٹ پر پچھلے ایک سال کے زائید عرصے سے رقومات کی ادائیگی کو لیکر مقامی ٹھیکدار اور درجنوں ورکر پچھلے چھ روز سے ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے پروجیکٹ کی رسائی کیلئے زیر تعمیر ڈیڑھ کلومیٹر لمبے ٹنل کا کام یکم اپریل 2021 سے مکمل طور سے ٹھپ پڑا ہے۔ رام بن سے تیس کلومیٹر دور ٹنگر کے علاقے میں تعمیر کئے جانے والا ساولاکوٹ پن بجلی پروجیکٹ اگرچہ رام بن ، ریاسی اور ادہم پور اضلاع کی سرحدوں پر واقع ہے لیکن اس پروجیکٹ  سے رام بن ضلع سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے اور دریائے چناب پر ساولا کوٹ باندھ کی تعمیر سے وجود میں آنے والی جھیل رام بن قصبہ سمیت جیسوال پل کرول تک کئی رہائشی اور جنگلاتی علاقوں کو متاثر کرے گی۔اگرچہ ساولا کوٹ پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کے سلسلے میں مختلف تجربات اور تجزیات کا کام پچھلی کئی دہائیوں سے چل رہا ہے لیکن سات آٹھ سال پہلے اس پروجیکٹ کو جموں و کشمیر سٹیٹ پاور ڈپولپمنٹ کارپوریشن کو سونپا گیا تھا لیکن اب این ایچ پی سی کو بھی جے کے ایس پی ڈی سی کا مشترکہ شراکت دار بنایا گیا ہے۔ پی ڈی سی نے ساولا کوٹ پن بجلی پروجیکٹ کی رسائی کیلئے  1550 میٹر لمبے ایک ٹنل کو ہندوستان کنسٹریکشن کمپنی کی مدد سے حال ہی میں آرپار کیاہے اور این ایچ پی سی اور پی ڈی سی کے جوائنٹ ونچر کو امید ہے کہ وہ جلد ہی بائیس ہزارکروڑ روپئے کی لاگت سے تیار کئے جانے والے زیر زمین پاور ہاوس اور باندھ کا کام شروع کرینگے۔ مقامی ٹھیکداروں کے ایک وفد میں شامل بہار الدین اور سرجیت سنگھ نے کشمیر عظمی کوبتایاکہ جموں وکشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن یکم جنوری 2020 سے ابتک ڈیڑھ کلومیٹر لمبے ٹنل کی تعمیراتی ایجنسی ایچ سی سی کو کوئی بھی رقم واگذار نہیں کر پائی ہے جس کی وجہ سے 167 کروڑ روپئے کی لاگت والے ٹنل کو مکمل کرکے اس کے آخری مراحل کے کام کو مکمل کرنے میں جٹے مقامی ٹھیکیداروں اور ان کے دو سو سے زائید ورکروں کی جان پر بن آئی ہے اور رقم نہ ملنے کی وجہ سے وہ طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2020 سے اب تک جو بھی کام مقامی ٹھیکیداروں کے زریعے سے انجام دیا گیا ہے، اس کی کوئی بھی رقم اب تک پی ڈی سے نے واگزار ہی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات سے دوچار ہیں اور جی ایس ٹی پر انہیں پینلٹی دینا پر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ JKSPDC  اورNHPC  کے درمیان جوائنٹ ونچر کے بعد پروجیکٹ کا کام کاج درہم برہم اور متاثر ہوگیا ہے اور جوائنٹ ونچر کے وجود میں آنے کے بعد پی ڈی سی نے مبینہ طور پر سڑکوں ، کالونیوں اور مرمت وغیرہ کے کئی ٹینڈروں کو منسوخ کردیا ہے اور پہلے ہی سے تاخیر کا شکار پروجیکٹ مزید تاخیر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال یکم جنوری سے سات مارچ 2021  تک ضلع انتظامیہ رام بن اورادہم پور کے حکام کی موجودگی میں جے کے ایس پی ڈی سی کے حکام نے رقومات واگذار کرنے کی یقین دہانی کئی بار کرائی لیکن اب تک ان یقین دھانیوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ہے جس کی سزا ایچ سی سی کے ساتھ کام کرنے والے مقامی ٹھیکیداروں اور مزدوروں کو بھگتنا پڑرہی ہے اور کام چھوڑ ہڑتال پر جانے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس سلسلے میں جموں وکشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر راجہ یعقوب سے فون پر بات کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے جمون وکشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا موقف نہیں جانا جا سکا۔