غلام نبی رینہ
کنگن // زوجیلا ٹنل پر اب 210 میٹر کھدائی کا کام رہ گیا ہے۔ سرینگر لداخ شاہراہ کو سال بھر آمدورفت کے لئے کھلا رکھنے اور سڑک حادث کو روکنے کے لئے مرکزی سرکار نے 6,809.69 کروڑ روپے کی لاگت سے 15۔13 کلو میٹر زوجیلا ٹنل پر 2018 پر کام شروع کیاہے تاکہ عوام کو سال بھر آمدورفت کے لئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے کیونکہ بھاری برفباری اور برفانی تودے گرآنے کے نتیجے میں لداخ شاہراہ چھ ماہ تک بند رہتی ہے جس کی وجہ سے عوام کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا جبکہ موسم بہار میں بھی زوجیلا پر ہر سال انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔
زوجیلا ٹنل تعمیر کررہی تعمیراتی کمپنی میگا انجینئرنگ انفراسٹرکچر لمٹیڈ(Meil) کے افسروں کا کہناہے کہ اب ٹنل کی کھدائی کا کام 210 میٹر رہ گیا اوریہ کام بھی جلد مکمل کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ زوجیلا ٹنل میں 1400 لوگ کام کررہے ہیں جن میں سے 1043 مقامی لوگ شامل ہیں۔انہوں بتایا کہ ٹنل تعمیر ہونے کے ساتھ ساتھ 18 کلو میٹر اپروچ روڑ بھی تعمیر کیا گیا ہے جبکہ دو چھوٹی چھوٹی ٹنلیں بھی روڑ کے ساتھ تعمیر کی گئیںہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹنل کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے تاکہ 2028 میں اس کو مکمل کرکے عوام کے نام وقف کیا جاسکے۔ میگا انجینئرنگ انفراسٹرکچر کے آفیسر کا کہنا ہے کہ اس ٹنل سے گمری پہنچنے تک صرف پندرہ منٹ کاسفر ہوگا جبکہ سونمرگ سے منی مرگ تک کا سفر تین گھنٹے کا ہے اور ٹنل مکمل ہونے کے بعد نہ صرف کرگل اور لداخ کے عوام کا رابطہ سال بھر ہوگا بلکہ سڑک حادثات سے بھی نجات مل سکتی ہے۔