زعفرانی نفرت و تشدد کے شیدائی!

 بی جے پی کوئی بہت پرانی پارٹی نہیں ہے۔اس کا قیام ۱۹۸۰ء میں ہوا لیکن اراکین کے اعتبار سے آج یہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی ہے کیونکہ کہا جا تا ہے کہ اس کے اراکین کی تعداد ۱۰؍کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کے اعتبار سے بھی یہ ہندوستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ریوینیو ،مرکزی آفس اور پارٹی فنڈ کے حساب سے بھی یہ سب سے آگے ہے اور اس نے ملک کے ان خطوں میں قدم جمایا ہے جہاں کم از کم اس تعلق سے تو سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔پارٹی کے روز قیام سے اس کے سر پر بھگوا تنظیم آرایس ایس کا ہاتھ ہے اور بھاجپا کے پھلنے پھولنے میں آرایس ایس کے کردارسے انکار نہیں کیا جا سکتا۔چونکہ آرایس ایس انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی، اس لئے اس نے بھاجپا کو اپنا سیاسی بازو بنایا۔یہ تو جے پرکاش نارائن کو سوچنا چاہئے تھاکہ اندرا گاندھی کی شدیدمخالفت اور مخاصمت میںانہوں نے بھارتیہ جن سنگھ کو جنتا پارٹی کا حصہ کیوں بنایا؟اور ۱۹۷۷ ء کا الیکشن جیتنے کے بعد وزیر اعظم مرار جی دیسائی کے کابینہ میں اٹل بہاری باجپئی اور لال کرشن اڈوانی کو اہم قلمدان کیوں سونپے گئے؟وقت سے پہلے مرار جی ڈیسائی حکومت گرنے کی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ بھارتیہ جن سنگھ کے لوگ ہندتوا کاز کیلئے سرگرم ہو گئے تھے۔یہ کاز اس قدر شدت اختیارکر گیا تھا کہ جب واجپئی اور اڈونی جی سے کہا گیا کہ یا توآپ حکومت میں رہیں یا آر ایس ایس کے ممبر،تو دونوں نے حکومت سے تو استعفیٰ دیا مگر آرا یس ایس سے چمٹے رہے۔حکومت گر گئی اور چوہدری چرن سنگھ چند ہفتہ وزیر اعظم رہنے کے بعد جنتا پارٹی کے لائے ہوئے صدر نیلم سنجیوا ریڈی نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی۔اندرا گاندھی ۱۹۸۰ء میں جیت کر پھر سے وزیر اعظم بن گئیں اور جنتا پارٹی کے ساتھ بھارتیہ جن سنگھ کو بھی بری طرح شکست ہوئی مگریہی وہ سال ہے جب بی جے پی وجود میں آتی ہے۔
اندرا گاندھی کے ۱۹۸۴ء میں قتل اور اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں راجیو گاندھی کو ۴؍سو کے اوپر سیٹیں ملتی ہیں، وہیں بی جے پی یعنی جن سنگھ کو صرف ۲؍سیٹوں پر اکتفا کرناپڑتا ہے لیکن ۱۹۸۹ء کے عام انتخابات میں بی جے پی کی یہ سیٹ بڑھ کر ۸۲؍ہو جاتی ہے اور پارٹی اس قابل بنتی ہے کہ جنتا دل کے وشوناتھ پرتاپ سنگھ حکومت کی حمایت کر سکے کیونکہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا موضوع اس کے لئے جانفزاء ثابت ہوا ۔راجیو گاندھی سے ایک غلطی تو ہوئی تھی جس کا تذکرہ سابق صدر مملکت ہند پرنب مکھرجی نے اپنی خود نوشت میں کیا ہے اور انہوں نے اس خدشے کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ہو نہ ہو یہ کسی کی سازش تھی اور راجیو گاندھی ہندو ووٹ حاصل کرنے کی خاطر گمراہ کر دئے گئے تھے کہ انہوں نے عدالتی انتباہ کے باوجود بابری مسجد کا تالا کھلوا دیا جس سے شیلا نیاس اپنے انجام کو پہنچا ۔چاروں طرف فسادات پھوٹ پڑے تھے ۔خاص طور پر یوپی اور بہار مسلم کش فسادات کی زد میں زیادہ آئے ۔ فائدہ توراجیو گاندھی یعنی کانگریس کو ملنا چاہئے تھا لیکن بی جے پی نے آریس ایس کی ذیلی تنظیموں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے ساتھ مل کر حالات کا زبردست فائدہ اٹھایا۔اس کے بعد لال کرشن اڈوانی کی سومناتھ سے ایودھیا تک کی رَتھ یاترا شروع ہوتی ہے جس سے ہندوستان بھر میں دہشت ،وحشت ،افراتفری اور انارکی کا ماحول قائم ہوتا ہے۔۱۹۹۱ء کے عام انتخابات میںاگرچہ کانگریس حکومت بناتی ہے لیکن بی جے پی کی سیٹ بڑھ کر ۱۲۰؍ ہو جاتی ہے۔بی جے پی کے ذریعے۱۹۹۲ ء میں ۶؍دسمبر کو بابری مسجد شہید کر دی جاتی ہے تو ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑتے ہیں۔خاص طور ممبئی میں منظم طریقے سے فسادات کروائے جاتے ہیں۔بعد میں ممبئی ہی میں ۱۹۹۳ء میں سیریل بم بلاسٹ ہوتے ہیں۔ان دونوں کی تفصیلات سری کرشنا کمیشن رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔اگرچہ اُن دنوں کانگریس کی نرسمہا راؤ کی حکومت ہوتی ہے جو ۱۹۹۶ ء کے انتخابات میں ہارجاتی ہے اور بی جے پی کی سیٹیں بڑھتے ہوئے ۱۶۱؍ پر پہنچ جاتی ہے۔پہلی بار بی جے پی کے اٹل بہاری واجپئی ۱۳؍روز کیلئے وزیر اعظم بنائے جاتے ہیں مگر مستعفی ہوتے ہیں کیوں کہ انہیں دوسری پارٹیوں کی حمایت حاصل نہیںہوپاتی۔اس کے بعدبھی رام مندر اور ہندتوا کا کھیل جاری رہتا ہے۔اس میں یکساں سول کوڈ اور کشمیر سے متعلق دفعہ ۳۷۰؍کی منسوخی کا تڑکا بھی جوڑ دیا جاتا ہے۔۱۹۹۸ء کے وسط مدتی انتخابات میں بی جے پی کو ۱۸۰؍سیٹیں آتی ہیں اور واجپئی جی ایک بار پھر وزیر اعظم بنائے جاتے ہیںجو ۱۳؍مینوں تک منصب پر رہتے ہیں کیونکہ جے للتااپنی حمایت واپس لینے سے تختہ پلٹ جاتا ہے۔رام نام جپنے کے ساتھ ساتھ واجپئی جی کی منفرد امیج کام آتی ہے اور نئے اتحادی جڑتے جاتے ہیں۔ایک بار پھر۱۹۹۹ء کے وسط مدتی انتخابات میں بی جے پی کو ۲؍سیٹیں بڑھ کر ۱۸۲؍ہو جاتی ہیں اور نئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر واجپئی جی اپنے وزارت عظمیٰ کے ۵؍سال پورے کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں جو ۵؍سال کی مدت پوری کر تا ہے ۔بیچ میں ۱۰؍ برس یو پی اے یعنی کانگریس کی حکومت ہوتی ہے جو اتنی ڈھیلی رہتی ہے کہ بی جے پی اور خاص طور پر مودی اور امیت شاہ پر شکنجہ نہیں کس پاتی ۔گجرات میں ۲۰۰۲ء میںحکومت کی دیکھ ریکھ میں منظم طریقے سے جو مسلم کش فسادات کرائے جاتے ، کانگریس ا ن کا سخت نوٹس نہیں لیتی اور نہ ہی کوئی موثر کارروائی کر تی ہے۔اس طرح بی جے پی کے حوصلے بڑھتے جاتے ہیں اوروہ بہت آگے بڑھ جاتی ہے،اتنی کہ لگنے لگتا ہے کہیں کانگریس کو ہی نہ نگل جائے ۔ 
غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کے ووٹوں میںترقی کا جو یہ گراف ہے، اس کی اساس تشدد اور خون خرابہ ہے،وِکاس تو قطعی نہیں۔وِکاس یا کسی اور نام سے یہ پارٹی ووٹ حاصل کر ہی نہیں سکتی۔پہلے ایودھیا اور رام کو استعمال کیا جس کے پیچھے مسلم دشمنی چھپی ہوئی تھی۔اس کی مدد سے وہ آج یہاں تک آئی ہے، لیکن دنیا کویہ کہتی ہے کہ وکاس اس کا ایجنڈا ہے۔۲۰۱۴ء کے عام انتخابات میں اسے جو ۲۸۲؍سیٹیں ملی تھیں اس میں مذہبی شدت پسندی کا اہم رول ہے ۔اگرچہ عوام نے اس کے فریب دیکھ لئے ہیں اور وہ اس سے دور جانا چاہتے ہیں تو پھر سے سبری مالا میں واقع ایک مندر ایپّا کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔کیرلا کے بیشتر خطوں میں اس نے تشدد برپا کر رکھا ہے اور لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں ۔کروڑوں روپے کے نقصانات الگ ہیں۔عدالت عظمیٰ کے آرڈر کو تسلیم کرنا نہیں چاہتی جس کی رُو سے مندر میں درشن کیلئے خواتین کو جانے کی اجازت ملنی چاہئے۔بی جے پی یہاں تو ہندو عورتوں کو برابری کا حق دینا نہیں چاہتی لیکن ٹرپل طلاق والے معاملے میں مسلم خوتین کو برابر ی کا حق دلوانا چاہتی ہے۔یہ دوغلی پالیسی عوام کوسمجھ میں آنے لگی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیرلا جو اپنے کاسموپولیٹن ہونے کیلئے مشہور ہے ،وہاں بھی بی جے پی زہر گھولنا چاہتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس کی پشت پناہی آر ایس ایس کر رہا ہے لیکن ایک صاف ستھرے صوبے کو یہ ناپاک کرنا چاہتی ہے۔اگرچہ معاملہ ہندو مسلم کا نہیں ہے لیکن ہندو مسلم بنانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟واضح رہے کہ یہاں مسلم آبادی ۲۷؍ فیصد کے قریب ہے ۔بی جے پی کے ایجنڈے میں ہے کہ اس ریاست کو ڈسٹرب کیا جائے۔اسی طرح مغربی بنگال کے بیشتر اضلاع میں یہ رَتھ یاترا کیلئے اجازت طلب کر رہی ہے۔کولکاتا ہائی کورٹ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا توسپریم کورٹ پہنچ گئی تاکہ اجازت حاصل کر کے مغربی بنگال کو بھی تعصب اور فساد کی آگ میں جھونک دے۔سپریم کورٹ میں شنوائی ۸؍جنوری کو ہے۔یہاںبھی مسلمانوں کی آبادی ۲۷؍فیصدی ہی ہے۔مہینوںرتھ یاترا کر کے فساد پھیلانے کا کام امیت شاہ انجام دینے والے ہیں،وہیں مودی جی ۶؍جنوری کو اپنی الیکشن مہم کو سبری مالا سے شروع کرنے والے ہیں۔اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں ملک کی سلامتی کو غارت کرنے کے لئے کس قدر بے چین ہیں۔یہ کام کبھی اڈوانی جی نے کیا تھا!
بی جے پی اور آرایس ایس دونوں چاہتی ہیں کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اچھی آبادی ہے ،چالاکی سے کام لیتے ہوئے انہیں کام کاج سے محروم تو کریں ہی ،اقتدار سے بھی کوسوں دور کر دیں۔آسام میں یہ کام ہو چکاہے۔ذرا سوچئے جہاں ۳۵؍فیصد سے زیادہ مسلمان ہوں، وہاںاقتدار میں ان کی کوئی پوچھ نہیں۔اور تو اور این آر سی کے تحت ان کو شہریت سے بے دخل کرنے کی بھی بات ہونے لگی۔اس کے علاوہ یوپی میں ایک بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن وہاں بھی جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ قطعی مسلمانوں کی بھلائی میں نہیں ہے ۔اقتدار تو جانے دیجئے ،یو پی میںمسلمانوں کو اپنی زندگی بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ملک میں جو گھمبیر حالات بنے ہیں،اس کے باوجودایک کام تو مسلمان اچھا کر رہے ہیں کہ بہکاوے میں نہیں آرہے ہیں اور کسی طرح کے منفی رد عمل کا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔ایسا بابری مسجد کے زمانے میں نہیں تھا۔عام چناؤ تک مسلمان ایسا ہی کرتے رہیں تو بہت حد تک ممکن ہے کہ انہیں اس کا میٹھا پھل بھی ملے۔اس کے علاوہ جو حکومتیں یا پارٹیاں اپنے ایجنڈے کو تشدد کے ذریعے حاصل کرنا چاہتی ہیں وہ اپنے ملک کے مستقبل کو تاریکیوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔مثلاًہٹلر والا جرمنی،موسولینی والا اٹلی وغیرہ۔اب تو یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟
( نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو ، نئی ممبئی کے مدیر ہیں  رابطہ9833999883)