بلال فرقانی
سرینگر//وادی میںامسال چلہ کلان کے دوران جنوری میں موسمی بارش میں قریب35فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث زراعت، باغبانی اور آبی وسائل متاثر ہونے کے خدشات نمایاں ہوگئے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق، اگر آئندہ دنوں میں بارش اور برف باری کا مؤثر سلسلہ شروع نہ ہوا تو اس صورتحال کے زرعی پیداوار، باغبانی، زمینی نمی اور آبی ذخائر پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق، یہ اعداد و شمار معمول سے کم بارش کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔مجموعی طور پر گزشتہ ماہ کے دوران مرکزی زیر انتظام خطہ میںموسمی بارشوں میں13فیصد کمی دیکھنے کو ملی جبکہ یوٹی میں اکتوبر تا دسمبر 2025 کی سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 77.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو کہ معمول کی اوسط سے 39 فیصد کم ہے۔ زعفران اور سیب کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بارش کی کمی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔کاشتکاروں کے مطابق موسمِ سرما کی بارشیں اور برف باری فصلوںکیلئے راحت کا باعث بنتی ہیں، تاہم اس وقت زمین میں نمی کی شدید کمی ہے، پانی کی دستیابی کم ہے اور فصلوں کی نشوونما کی رفتار بھی سست دیکھی جا رہی ہے۔ زرعی ماہر ڈاکٹر اصلاح الدین گنائی کے مطابق زعفران کی فصل کو اکتوبر سے جنوری کے دوران مناسب نمی درکار ہوتی ہے، بصورت دیگر اس کی نشوونما درست طریقے سے نہیں ہو پاتی۔ اسی طرح سیب کی فصل کیلئے برف باری کو فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، کیونکہ سرد موسم درختوں کو راحت فراہم کرتا ہے اور ان کی بہتر نشوونما میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جنوری میںشمالی کشمیر میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک رہی۔ کپوارہ میں محض 25.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ معمول 80.7 ملی میٹر ہے۔ بانڈی پورہ میں 25.3 ملی میٹر کے مقابلے میں معمول 64.7 ملی میٹر اور بارہمولہ میں 65.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ معمول 82.6 ملی میٹر ہے۔ مجموعی طور پر شمالی کشمیر کے اضلاع میں 45 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔وسطی کشمیر میں بارش کا رجحان ملی جلی نوعیت کا رہا۔ بڈگام میں 38.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول 61.1 ملی میٹر سے خاصی کم ہے۔ تاہم گاندربل واحد ضلع رہا جہاں 102.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ معمول 82 ملی میٹر ہے۔ سرینگر ضلع میں 76.1 ملی میٹرکے مقابلے میں جنوری میں63.7 ملی میٹر بارشیں ہوئی جو معمول سے 16ملی میٹر کم ہے۔جنوبی کشمیر میں بھی بیشتر اضلاع میں بارش کی کمی درج کی گئی۔ اننت ناگ میں 61 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ معمول 72.4 ملی میٹر ہے۔ کولگام میں صورتحال مزید سنگین رہی جہاں 123.4 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں 66.2 ملی میٹر ہے، جو تقریباً 46 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم پلوامہ میں 52.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول 41.6 ملی میٹر سے زائد ہے۔ شوپیان ضلع48.5ملی میٹر کے مقابلے میں23.8ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے51فیصد کم ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی نمایاں تبدیلی کی صورت میں بروقت پیش گوئی اور ایڈوائزری جاری کی جائے گی۔