عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نیشنل کانفرنس کی عوامی نمائندہ سرکار بے شمار مشکلات، رکاوٹوں اور پہاڑ جیسے چیلنجز کے باوجود عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے ازالے کے لئے مسلسل کوشاں ہے اور اس ضمن میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جا رہا۔ یہ وہی سرکار ہے جسے عوام نے اپنے قیمتی ووٹوں، بھرپور اعتماد اور واضح مینڈیٹ کے ذریعے وجود بخشا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے عوامی نمائندہ سرکار کے کام میں بلاجواز رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور ترقیاتی اقدامات میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں، جو کہ آئین اور جمہوری اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ان باتوں کا اظہار این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل پلوامہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ریاستی درجہ بحال کرے، کیونکہ یہاں کے عوام نے لیفٹیننٹ گورنر کو نہیں بلکہ اپنی منتخب عوامی حکومت کو اقتدار سونپا ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منشیات کے بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ نہ صرف والدین بلکہ پورے معاشرے کے لئے باعث فکر بن چکا ہے، کیونکہ نوجوان نسل تیزی سے اس لت کا شکار ہو رہی ہے۔ انہوں نے موبائل فون کے غلط استعمال کو بھی نوجوانوں پر منفی اثرات کا ایک اہم سبب قرار دیا۔انہوں نے والدین، علمائے کرام اور ائمہ مساجد سے پْرزور اپیل کی کہ وہ اس سماجی برائی کے خاتمے کے لئے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اس ناسور کا سدباب نہ کیا گیا تو یہ ہماری نئی نسل کے مستقبل کے لئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ تقریب میں جسٹس (ر) حسنین مسعودی، غلام محی الدین میر،عمران نبی ڈار، محمد خلیل بند سمیت دیگرلیڈروں نے بھی شرکت کی ۔