عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی//بھارتی روپیہ جمعہ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں 17پیسے کم ہو کر 92.68(عارضی)پر بند ہوا۔ماہرین کے مطابق روپے میں دن بھر اتار چڑھا دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ عالمی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں روپیہ 92.58پر کھلا، لیکن بعد میں کمزور ہو کر 92.76 کی نچلی سطح تک پہنچ گیا، جبکہ دن کے دوران اس نے 92.41 کی بلند سطح بھی دیکھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کی صورتحال، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی معیشت پر دبا ڈال رہی ہے جس سے روپے پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔اسی دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی روپے کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ہے، کیونکہ بھارت تیل کی درآمد پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔ادھر اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، جہاں سینسیکس اور نفٹی دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت نے روپے پر دبا برقرار رکھا۔ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے مطابق اگر مشرق وسطی میں کشیدگی جاری رہی تو اس سے بھارت کی معیشت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔