عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی//فاریکس بازار میں خاص طور پرروپیہ نے 2025 میں شدید اتار چڑھائو دیکھا۔ اس سال کئی مواقع پر روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے 90 کی سطح سے نیچے چلا گیا۔ جنوری تا دسمبر 2025 میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 12.5 فیصد کی تیز گراوٹ آئی، جس کے باعث ہندوستانی روپیہ ایشیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی بن گیا۔2024 کے آخر میں روپیہ 85.22 پر بند ہوا تھا مگر مئی 2025 کے بعد سے اس کی قدر مسلسل گھٹتی گئی اور اگست کے آخر میں یہ 88 روپے فی ڈالر سے کچھ زیادہ کی نئی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد ہی یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر ریزرو بینک نے 89 روپے فی ڈالر پر مداخلت نہ کی تو روپیہ 90 فی ڈالر تک جا سکتا ہے۔ ریزرو بینک کی مداخلت اور تمام تر کوششوں کے باوجود 16 دسمبر 2025کو روپیہ ڈالر کے مقابلے 91 کی سطح سے بھی نیچے چلا گیا۔ اس گراوٹ کی وجہ ہندامریکہ تجارتی معاہدے پر غیر یقینی صورتحال بتائی گئی۔ خاص طور پر دسمبر میں ہندوستانی کرنسی نے کئی بار امریکی ڈالر کے مقابلے 90 کی سطح توڑی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روپے کی حالیہ کمزوری کی بنیادی وجہ ملکی معیشت کی کمزوری سے زیادہ بیرونی عوامل اور بدلتے معاشی و جغرافیائی سیاسی حالات ہیں۔1جنوری 2025کو روپیہ 85.22فی ڈالر پر تھا۔ اسی مہینے میں یہ کمزور ہو کر 85اور 86کے درمیان جھولتا رہا اور 31جنوری 2025 کو 86.20فی ڈالر پر بند ہوا۔ 1دسمبر 2025کو روپیہ 89روپے فی ڈالر کی کمزور سطح سے شروع ہوا اور 16دسمبر 2025کو 90 کی حد عبور کر گیا۔ 2025 میں بہترین ایکسچینج ریٹ 5مئی 2025 کو رہا جبکہ بدترین شرح 16 دسمبر 2025کو دیکھی گئی۔26 دسمبر 2025کو امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ 0.44فیصد کم ہو کر 89.75 پر آ گیا۔ گزشتہ 12 ماہ میں روپیہ مجموعی طور پر 5.12فیصد کمزور ہوا۔ تاریخی طور پر دسمبر 2025میں ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپیہ کی شرح مبادلہ 91.38 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ روپے کی کمزوری کی بڑی وجوہات میں امریکی ٹیرف کے باعث برآمدات پر دبا، سونے اور چاندی کی درآمدات میں اچانک اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ہندوستانی ایکویٹی مارکیٹ سے بڑے پیمانے پر سرمایہ نکالنا شامل ہے۔