عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی// ایف آئی آئی کے اخراج اور بینکوں کے ذریعہ ڈالر کی خریداری جاری رکھنے کے درمیان بدھ کو انٹرا ڈے سیشن میں روپیہ اپنے پچھلی کلوزنگ سے 29 پیسے گر کر 90.25 کی نئی کم ترین سطح پر آگیا۔فاریکس ٹریڈرس(غیر ملکی کرنسی کے تاجروں)کے مطابق گھریلو ایکویٹی مارکیٹ میں گراوٹ اور ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کی ناکامی نے لوکل یونٹ کو مزید دبا میں ڈال دیا ہے۔انٹربینک فارن ایکسچینج میں، روپیہ گرین بیک کے مقابلے میں 89.96 پر کھلا اور 29 پیسے گر کر 90.25 کی اب تک کی کم ترین سطح پر آگیا۔منگل کو، روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 43 پیسے گر کر 89.96 کی اب تک کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا۔ یہ بنیادی طور پر سٹہ بازوں کی طرف سے مسلسل شارٹ کورنگ اور امریکی کرنسی کے لیے درآمد کنندگان کی مسلسل مانگ کی وجہ سے ہوا تھا۔کموڈٹیز اینڈ کرنسی، ایل کے پی سیکیورٹیز کے وی پی ریسرچ اینالسٹ جتن ترویدی کا کہنا ہے کہ، “پہلی بار انڈیا-امریکہ تجارتی معاہدے کی ناکامی اور ٹائم لائن میں بار بار تاخیر کے دبا میں روپیہ 90 کی سطح سے نیچے گرا۔انہوں نے مزید کہا’’ریکارڈ بلند دھات اور بلین کی قیمتوں نے ہندوستان کے درآمدی بل کو خراب کر دیا ہے، جبکہ بھاری امریکی محصولات برآمدی مسابقت پر دبا ڈال رہے ہیں‘‘۔فنریکس ٹریژری ایڈوائزرز ایل ایل پی کے ٹریژری ہیڈ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر انیل کمار بھنسالی نے کہا’’بھارتی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) برآمد کنندگان کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں، اور پچھلے کچھ دنوں سے ڈالر کی مسلسل حمایت کی وجہ سے روپیہ کمزور ہو رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ قومی بینکوں نے منگل کو مسلسل بلند سطح پر ڈالر خریدے۔