عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں /ایک بڑے جھٹکے میں، سی بی آئی کی جانب سے پیر کے روز گرفتار کیے گئے شفاعت احمد شنگلو کو منگل کو خصوصی عدالت نے رہا کر دیا۔ شنگلو کو 1989 میں اُس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سید کی بیٹی روبیہ سید کے اغوا کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔عدالت نے شنگلو کی تحویل کے لیے سی بی آئی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں ان کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ سی بی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ شنگلو 35 سال پرانے اس کیس میں مسلسل مفرور تھا اور اس کی گرفتاری پر 10 لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا۔
سی بی آئی کے مطابق شنگلو پر الزام ہے کہ انہوں نے 1989 میں کالعدم تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے ارکان، بشمول یاسین ملک، کے ساتھ مل کر اغوا کی سازش رچی۔ ایجنسی نے خصوصی ٹاڈا عدالت جموں میں اس کی حراستی ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے اسے قبول نہیں کیا۔
اہلکاروں کے مطابق شنگلو جے کے ایل ایف کا عہدیدار تھا اور تنظیم کے مالی معاملات دیکھتا تھا۔ اسے سی بی آئی اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران سرینگر کے نشاطعلاقے میں اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔یاسین ملک، جو اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں ایک ملی ٹینسی کی فنڈنگ کیس میں سزا کاٹ رہا ہے، وزارتِ داخلہ کی پابندی کے باعث عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا۔
روبیہ سید اغوا کیس: عدالت نے شنگلوکو رہا کردیا، سی بی آئی کی تحویل کی درخواست مسترد