عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر کی باغبانی کے شعبے پر ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ میں ماہرین نے متعدد ساختی اور نظامی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم پیداوار، روایتی باغبانی کے طریقے، کمزور منڈی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کا محدود استعمال کسانوں کی آمدنی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں زیادہ تر باغات روایتی انداز میں لگائے گئے ہیں جہاں بیج سے اگائے گئے پودوں اور غیر سائنسی فاصلوں کی وجہ سے پیداوار کم ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ پرانے اور ناکارہ باغات کی جگہ جدید ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے، جس میں بونے اور بہتر اقسام کے پودوں کا استعمال کیا جائے۔پانی کے مؤثر استعمال کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محدود آبی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے ڈرِپ ایریگیشن نظام کو وسیع پیمانے پر اپنانا ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پانی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ زرعی زمین کا دیگر مقاصد کے لیے استعمال بڑھنے سے زیرِ کاشت رقبہ کم ہو رہا ہے، جبکہ موسمیاتی تغیرات کسانوں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔غیر سائنسی کاشتکاری طریقوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کیمیائی ادویات اور کھادوں کا بے دریغ استعمال، زرعی ادویات کے مناسب شیڈول پر عمل نہ کرنا، اور عالمی منڈی میں نامیاتی پیداوار کی مانگ کے حوالے سے آگاہی کی کمی، پیداوار کے معیار اور برآمدی امکانات کو متاثر کر رہی ہے۔ان پٹ سپورٹ اور توسیعی خدمات میں کمی کو بھی ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیاری بیج اور پودوں کی دستیابی محدود ہے جبکہ کسانوں کو کھادوں اور زرعی ادویات کے سائنسی استعمال کے حوالے سے مناسب رہنمائی بھی میسر نہیں۔