اس حقیقت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ آر ایس ایس دنیا کی ایک ایسی منظم تنظیم ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ خود کو ایک غیر سیاسی اور فلاحی تنظیم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی عوامی فلاح و بہبود کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ جس پیمانے پر یہ سماج کے تمام طبقات میں کام کرتی ہے اس کی بھی کوئی مثال نہیں۔ لیکن اس عوامی فلاح و بہبود کے پس پردہ اس کا مقصد ہندوستان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کرنا ہے جہاں اس کے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے والوں کو اول شہری اور باقی دوسروں کو دو نمبر کے شہری مانا جائے۔ اس کا یہ دعویٰ تو درست ہے کہ وہ سماجی خدمات میں سرگرم ہے لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کہ وہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ کم از کم جب سے مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی ہے آر ایس ایس خود کو غیر سیاسی نہیں کہہ سکتا۔ آج مرکزی کابینہ میں وزیر اعظم سے لے کر جانے کتنے ایسے وزیر ہیں جن کی پرورش و پرداخت آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں ہوئی ہے۔ بہ الفاظ دیگر آج آر ایس ایس ہی حکومت کر رہا ہے۔ آر ایس ایس کے پاس بہت بڑی پروپیگنڈہ مشینری ہے۔ اس کا استعمال وقتاً فوقتاً کیا جاتا ہے۔ یہ مشینری اتنی طاقتور ہے کہ ایک بار تو چند گھنٹوں کے اندر پوری دنیا میں یہ گمراہ کن خبر پہنچا دی گئی تھی کہ گنیش جی کی مورتی دودھ پی رہی ہے۔ آر ایس ایس کے نزدیک اپنے مقصد کی حصولیابی کے لیے جو بھی کرنا پڑے وہ جائز ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا پڑے تو بنایا جائے او ربنایا جاتا بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ کام بڑی خوبی سے کیا جا رہا ہے۔ چونکہ آر ایس ایس کی سیاسی شاخ بی جے پی برسراقتدار ہے اس لیے وہ بھی اس مہم میں شد و مد کے ساتھ شریک ہے۔ اس کے لیے بی جے پی کا ایک آئی ٹی سیل ہے جو چوبیس گھنٹے خبریں بناتا اور پھیلاتا ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ وہ خبریں صداقت پر مبنی ہوں۔ دوسری پارٹیوں کے آئی ٹی سیل بھی یہی کام کرتے ہیں لیکن وہ بی جے پی کے آئی ٹی سیل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل پر ’’فیک نیوز‘‘ یعنی جعلی خبریں بنانے اور پھیلانے کا الزام لگتا رہتا ہے۔ آئی ٹی سیل کے علاوہ اس کے پاس بے روزگاروں کی ایک ایسی فوج بھی ہے جو آئی ٹی سیل کے لیے کمک کا کام کرتی ہے۔ جہاں ضرورت پڑتی ہے اسے تعینات کر دیا جاتا ہے اور پھر یہ فوج دشمنوں کے چھکے چھڑا دیتی ہے۔ اس میدان میں اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت کسی دوسری سیاسی پارٹی میں نہیں ہے۔ کانگریس ایک قدیم پارٹی ہے اور اپنی پشت پر اپنے کارناموں کی ایک روشن تاریخ رکھتی ہے۔ لیکن بی جے پی یا یو ںکہیں کہ سنگھ پریوار کے حربوں کے آگے وہ خود کو بے دست و پا محسوس کرتی ہے۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے علاوہ پارٹی ترجمانوں کی فوج بھی یہ کام کرتی ہے۔ اور اس فوج کے سربراہ ایک تیز طرار سیاست داں ڈاکٹر سمبت پاترا ہیں۔
سمبت پاترا نے گزشتہ دنوں ایک دستاویز ٹوئٹ کی اور الزام عاید کیا کہ یہ کانگریس کا بنایا ہوا ’’ٹول کٹ‘‘ ہے جس کا مقصد کرونا وبا کے دوران مودی حکومت کو بدنام کرنا ہے۔ اس ٹوئٹ کو کئی وزرا نے ری ٹوئٹ کیا اور ایک طرح سے کانگریس پر حملہ بول دیا گیا۔ کانگریس کے پاس دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ اسے غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دینے میں مصروف ہو گئی۔ اس نے ٹوئٹر میں شکایت بھی کی کہ یہ اس کا ٹول کٹ نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے خود بنایا ہے۔ کانگریس کی جانب سے سمبت پاترا اور بعض دیگر رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ ایک ایف آئی آر چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں بھی درج کرائی گئی اور اس میں سمبت پاترا کے علاوہ ریاست کے سابق بی جے پی وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کا نام بھی شامل کیا گیا۔ ان دونوں کو اتوار کی شام کو رائے پور کے سول لائنز تھانے میں پولیس کے سامنے پیش ہونا تھا لیکن دونوں پیش نہیں ہو سکے۔ سمبت پاترا نے کوئی دوسری تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کر دی۔ جبکہ رمن سنگھ نے کہا کہ کانگریس کی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ان پر حملہ کر رہی ہے۔ اب کانگریس جارحانہ موڈ میں نظر آنے لگی ہے۔ اس نے گیارہ مرکزی وزرا کے خلاف ٹوئٹر سے شکایت کی ہے۔
قبل ازیں کانگریس کی شکایت پر ٹوئٹر نے سمبت پاترا کی ٹوئٹ کو ’’مینی پولیٹیڈ میڈیا‘‘ یعنی گمراہ کن یا جوڑ توڑ والی معلومات قرار دے دیا۔ ٹوئٹر کا یہ قدم حکومت کو بہت برا لگا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر کو فیصلہ سنانے کا حق کس نے دیا۔ اس معاملے کی تو جانچ ہو رہی ہے کہ یہ یہ ٹول کٹ اصلی ہے یا نقلی۔ ٹوئٹر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے مینی پولیٹیڈ میڈیا کے زمرے میں ڈالے۔ ان کی جانب سے اس ناراضگی کا اظہار کرنا تھا کہ دہلی پولیس کا اسپیشل سیل سرگرم ہو گیا۔ اس کی دو ٹیمیں نکل پڑیں ٹوئٹر کے دفتروں پر چھاپے مارنے کے لیے۔ جنوبی دہلی کے لاڈو سرائے میں واقع ٹوئٹر کا دفتر پولیس کو بند ملا۔ وہاں ایک چوکیدار تو ملا لیکن کوئی کارکن نہیں ملا۔ دہلی میں لاک ڈاون کی وجہ سے دفتر بند تھا۔ جبکہ اطلاعات کے مطابق گوڑگاؤں کا دفتر پولیس کو ملا ہی نہیں۔ شروع شروع میں کئی گھنٹے تک بی جے پی کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ پولیس نے ٹوئٹر کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔ لیکن بعد میں پولیس کا کہنا تھا کہ یہ چھاپہ نہیں تھا بلکہ ٹوئٹر کو نوٹس دینے کا معاملہ تھا۔ اس کے مطابق اس سے پہلے جو نوٹس دیا گیا تھا اس پر ٹوئٹر انڈیا کے ایم ڈی نے جو جواب دیا وہ بہت مبہم تھا۔ اس لیے بذات خود جا کر نوٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دورے کا ایک مقصد پولیس نے یہ بھی بتایا کہ یہ جاننا تھا کہ ٹوئٹر کے پاس کیا معلومات ہیں جن کی بنیاد پر اس نے سمبت پاترا کی ٹوئٹ کو مینی پولیٹیڈ میڈیا کے زمرے میں ڈالا۔ کانگریس کی جانب سے دہلی پولیس کی اس کارروائی کی سخت مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اصل مجرم تو بی جے پی کے آئی ٹی سیل میں بیٹھے ہوئے ہیں اور پولیس ٹوئٹر کے دفاتر میں انھیں تلاش کر رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر او ریو پی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی اس پولیس کارروائی کی مخالفت کی۔ بعد میں پولیس نے کانگریس کے سوشل میڈیا سربراہ روہن گپتا اور پارٹی ترجمان ایم وی راجیو گوڈا کو بھی نوٹس جاری کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سمبت پاترا کو بھی تحقیقات کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ پولیس کے ایک بیان کے مطابق ہم اس معاملے میں ملوث تمام لوگوں یا تنظیموں کے ذمہ داروں کو بلانے اور ایف آئی آر درج کرنے سے قبل ابتدائی جانچ کر رہے ہیں اسی لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس کے بقول ہم نے ٹوئٹر کے علاوہ شکایت کنندگان اور کانگریس کے نمائندوں کو بھی اسی لیے نوٹس جاری کیا ہے تاکہ وہ بھی جانچ میں شامل ہوں اور سلسلۂ واقعات پر روشنی ڈالیں۔ ہم پوچھ گچھ کے لیے بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کو بھی نوٹس جاری کرنے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی حکومت اور ٹوئٹر کے درمیان تنازعات پیدا ہوئے تھے۔ حکومت کی جانب سے کسان تحریک سے متعلق سیکڑوں ٹوئٹس ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے ٹوئٹر نے بہت سی ٹوئٹس ہٹا دی تھیں جن میں کارواں میگزین کی ٹوئٹس بھی شامل تھیں۔ حکومت نے 22 مئی کو تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے یہاں سے وہ تمام مواد ہٹا دیں جن میں کرونا کی ایک قسم کو ’’انڈین ویریئنٹ‘‘ کہا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر نے اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق سمبت پاترا کی ٹوئٹ کو ’’مینی پولیٹڈ میڈیا‘‘ کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ اس میں حکومت کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی پروپیگنڈا مشینری فیک نیوز پھیلاتے ہوئے پکڑی گئی ہے اور اب اس کو جائز ٹھہرانے کے لیے حکومت کی جانب سے کارروائی کی جا رہی ہے۔ مبصرین یہاں تک کہتے ہیں کہ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور بی جے پی کے درمیان کا فرق مٹ گیا ہے اور انتظامیہ، پولیس اور بیوروکریسی سب بی جے پی کا حصہ بن گئے ہیں۔ جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہندوستان کے قوانین و ضوابط کے مطابق چلنا پڑے گا۔ جو بھی ان قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت ایک بار پھر اپنی طاقت کا استعمال کرکے ٹوئٹر کو اپنا پابند بنانا چاہتی ہے اور جو حالات ہیں ان میں وہ کامیاب بھی ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جب حکومت نے تقریباً پندرہ سو ٹوئٹس ہٹانے کی ہدایت دی تھی تو تقریباً نوے فیصد ٹوئٹس ٹوئٹر نے ہٹا دی تھیں۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ ٹوئٹر کو اس بار بھی جھکنا پڑے گا کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے تجارتی مفادات متاثر ہوں گے۔ لہٰذا وہ اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ میں حکومت کی بات ماننے کے لیے مجبور ہو جائے گا۔ بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت گودی میڈیا کی مانند سوشل میڈیا کو بھی اپنا پابند بنانا چاہتی ہے۔ اس نے سپریم کورٹ میں بارہا کہا ہے کہ سوشل میڈیا کو منضبط کرنے کی ضرورت ہے۔
موبائیل نمبر۔9818195929