آخروہ بابرکت ماہِ مبارک آہی گیا، جس کا ہمیں انتظار تھا۔ ویسے تو روزے کااہتمام سبھی مذاہب میں کیاجاتاہے مگروہ ہمارے روزوں سے کافی حد تک مختلف ہوتاہے ۔کچھ میں پانی پینے یا پھل کھانے کی اجازت ہوتی ہے تو کچھ میں اناج کی غذاؤں کے علاوہ سبھی کچھ کھایاجایاسکتا ہے، مگراسلام میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے اورپینے سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ لیکن کھاناپیناترک کرنے کے ساتھ اوربھی کئی چیزیں روزے کی تکمیلات میں سے ہیں جیسے پانچوںوقت کی نمازیںاداکرنا،روزے کے دوران جھوٹ ،چغل خوری ،حسد وکینہ اور لغو وفضول کاموں سے بچنا ۔یہی لوازمات وتکمیلات روزے اورفاقے کے درمیان تفریق بھی کرتی ہیں۔
روزہ صرف دن بھربھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے۔روزے کی حالت میں مکمل طور پرہراس بُرائی سے بچنا بھی ہوتاہے، جس سے ہمارادین روکتا ہے۔ رمضان الکریم وہ مبارک مہینہ ہے جس میں ہم اپنے مالک حقیقی سے ایمان کامل اور یقین صادق کے ساتھ واسطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رزل حلال اور خشیت کے طلب گارہوتے ہیں،اس کے علاوہ توبہ و استغفار کازیادہ سے زیادہ اہتمام کیاجاتاہے کہ وہ ہماری کوتاہیوں کو معاف کرکے ہماری موت کو آسان بنائے اور ہمیں اس جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے، جس کے ایندھن انسان بنیں گے۔اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ زیادہ جنت نعیم کے حصول کی دعابھی مانگنی چاہیے اور افطار سے پہلے اوردعاؤں کے ساتھ یہ دعائیںمانگی جائے تو اللہ تعالیٰ اُسے ضرور سنیں گے۔
روزے میںایک بہت ہی افضل عمل تراویح ہے۔ چونکہ اس وقت دنیا بھرمیں کورونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے، اس لیے تمام نمازیں اور تراویح بھی ہمیں گھر میں ہی ادا کرناہے۔مگرجس گھر میں تین یا تین سے زیادہ مردوعورتیں ہیں، وہ نمازِپنج گانہ گھر میں جماعت بناکرادا کرسکتے ہیں اور’سورہ تراویح‘بھی کابھی اہتمام کیاجاسکتاہے۔اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے کیوں کہ رمضان کریم میں جو کوئی نیکی کاکام کرتاہے، اسے فرض کے برابر ثواب دیاجاتاہے۔ اسی طرح ہرفرض کا ثواب بھی70فرض کے برابرکردیاجاتا ہے۔ مضبوط قوت ارادی کے ساتھ روزے کی نیت کرنا روزے کا بہت اہم حصہ ہے، کیوں کہ جب تک نیت نہیں ہوگی روزے کاحق بھی ادا نہیں ہوگا،کیوں کہ حدیث پاک میں ہے کہ ’تمام اعمال کادارومدارنیت پرہے۔‘یعنی ہرعمل سے پہلے یہ ارادہ کرنا کہ اس عمل کو صدق دلی کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچایاجائے گا۔گویا رمضان دراصل مسلمانوں کے لیے نیکی پرچلنے اوربرائیوں سے بچنے کی ٹریننگ کامہینہ ہوتا ہے، جس نے اس سے جس قدرحاصل کیا، وہ دنیاوآخرت دونوںمیں اتنا ہی کامیاب ہوگا۔
آخرت کے علاوہ روزہ طبی نقطہ نظر سے بھی کافی اہم ہے،کیوں کہ یہ قوت مدافعت بڑھاتاہے اورپورے مہینے کم کھانے کی وجہ سے وزن میں بھی کمی لاتاہے، جس کی وجہ سے دورانِ خون میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کم کھانے سے خاص طور سے میٹھی غذاؤں سے بچنے کے سبب شوگر کی بیماری میں بھی کمی آجاتی ہے۔ روزے کاسب سے زیادہ فائدہ معدے کو ہوتاہے۔اس سے معدے کو 12گھنٹے کاآرام مل جاتاہے، جس کی وجہ سے ہائیڈروکلورک ایسڈ، پیپسن اور دوسرے ان غدود کو آرام ملتاہے، جن کے ذریعہ کھاناہضم ہوتاہے۔ ویسے بھی پنکریازجوشکر کوجسم میں ہضم کرتی ہے اسے بھی خوب آرام کرنے کا وقت مل جاتاہے۔ جن لوگوں کو گیس کی وجہ سے معدے میں ورم وغیرہ کی شکایت رہتی ہے، وہ بھی تھم جاتی ہے۔ اس طرح جسمانی عضو اس ماہ میںآرام کرکے آگے بہتر کام انجام دینے کے لیے تیارہوجاتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ پورے شرائط کے ساتھ روزہ رکھنے والے شخص میں روحانی قوت عام دنوں کے مقابلے 10گنابڑھ جاتی ہے اور اس سے قوتِ ارادی کو بھی بے انتہا تقویت حاصل ہوتی ہے۔
جن لوگوں کو بلڈپریشر یاشوگر کی شکایت ہے، انھیں اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے رکھناچاہیے کیوں کہ اس بیماری میں روزہ رکھنا خطرناک ہوسکتاہے۔ اس کے علاوہ جگر،گردے کے مریضوں کوبھی روزے اپنے ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی رکھناچاہیے۔ ایک بات جس پرخصوصی طورپردھیان دینے کی ضرورت ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو دوپہر میں خاص کر بہت محنت اورتھکادینے والے کاموں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
اب آئیے رمضان الکریم کے ان فوائد کی طرف جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس ماہ میں ودیعت فرمائی ہیں۔ ہمارے حضورؐ نے فرمایا کہ رمضان کا ماہِ مبارک تم پرجلوہ فگن ہوچکاہے یہ نہایت بڑااورعظیم مہینہ ہے۔ اس میں ’لیلۃالقدر‘ ہے جس میں عبادت ہزارمہینوں سے بھی بڑھ کرثواب ملتاہے۔ اللہ نے اس ماہ مبارک کے روزے فرض کیے ہیں اور رات کے قیام یعنی تراویح رکھی ہیں۔ جو بھی اس ماہ میں نفلی نمازوں کا اہتمام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے فرض کادرجہ عطاکرے گا۔ یہ صبراورشکر کامہینہ ہے اورصبر کابدلہ جنت ہے۔یہ ہمدردی، غم گساری کامہینہ ہے، اس میں انسان کا رزق بڑھا دیا جاتاہے۔ اس ماہ میںخیرات، غریبوں کی مدد، انھیں کھانا کھلانے کا بڑا ثواب ہے۔
موجودہ صورت حال میں جب کورونا کی وباکی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے سامنے روزی روٹی کامسئلہ کھڑاہوگیاہے،روزے داروں کی ذمہ داری مزیدبڑھ جاتی ہے۔روزہ دار اپنی بھوک کااحساس کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جولوگ بھی بھوکے ہیں، انھیں کھاناکھلائیں، چاہے وہ کسی بھی فرقہ یامذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس موقع کو غنیمت سمجھیں اوراس کارِخیرکو اپنے لیے باعث رحمت تصور کریں اور اپنی طاقت سے زیادہ ان مجبور اورغریب لوگوں کی مددکریں۔ جومسلمان صاحب حیثیت ہیں، وہ اپنی زکوٰۃ کاکچھ حصہ اس مد میں بھی خرچ کریں۔
’لیلۃ القدر خیرمن ألف شہر‘رسول مقبولؐ کی اس رات کے آنے پر بے پناہ مسرت کااظہارفرماتے اور پوری رات قیام اللیل کااہتمام خودکرتے اورگھر کے تمام افراد سے بھی اس کا اہتمام کراتے۔ لہٰذا ہم مسلمان اپنے گھروں میں نمازوں کااحترام کریں اگر گھرمیں 4سے 5لوگ ہیں توجماعت کابھی اہتمام کریں،کیوں کہ اس سے اتناہی ثواب ملے گاجتنامسجد میں باجماعت نمازپڑھنے سے ملتاہے۔
رمضان کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے جوبچے بڑے ہورہے ہیں،انھیں بھی روزہ رکھوائیں۔ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چھوٹی عمرمیں ہی بچوں کونماز،سورئہ فاتحہ اور دیگر دعائیں یادکرائیں۔مجھے جو دعائیں اور نمازپڑھنے کے آداب بچپن میں میری ماں نے سکھائے تھے، وہی آج تک کام آرہے ہیں، سوائے قرآن کے ان حصوں اوردعاؤں کے جو میں نے40سال کی عمر سے یاد کرنے شروع کیے۔ میرا ایک شعرہے:
دیکھیں وہ کریں کیسے سپوتوں کی پرورش دامن ہیں پھیلے قوم کی ماؤں کے سامنے
ماہ رمضان ایسا مبارک مہینہ ہے، جس میں جتنی عبادت کی جائے وہ کم ہے۔ لہٰذاتمام لوگوں خاص طورسے جوانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ماہِ مبارک میں ڈیجیٹل فون پرکم سے کم وقت صرف کریں اور جتنا ہوسکے وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزاریں، ورنہ روزہ اوررمضان کاوہ حق ادانہیں ہوگا جو ہوناچاہیے۔ آئیے ہم سب مل کر رمضان الکریم کااستقبال کریں اور اللہ کے سامنے بخشش کے لیے خودکوپیش کریں۔
صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر،نئی دہلی25-
# : 9971730422