عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے جمعہ کو بارہمولہ ضلع کے اوڑی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک نائب تحصیلدار اور ایک پٹواری کے خلاف رشوت ستانی کے الزام میں چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔حکام کے مطابق، ملزمان میں اس وقت کے نائب تحصیلدار یوری الطاف حسین خان اور پٹواری حلقہ یوری پردیپ کمار شامل ہیں، جن پر ریونیو دستاویزات فراہم کرنے کے عوض رشوت طلب کرنے اور وصول کرنے کا الزام ہے۔ کارروائی کے دوران ایک ملزم کو 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔اے سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کیس ایف آئی آر نمبر 12/2024، پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ میں درج کیا گیا تھا۔ یہ شکایت 11 ستمبر 2023 کو یوری کے ایک رہائشی کی جانب سے درج کرائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے 10 مرلہ زمین خرید کر اس پر مکان تعمیر کیا، تاہم فروخت کنندہ کے ساتھ تنازع کے باعث اسے متعلقہ ریونیو دستاویزات درکار تھے۔شکایت کے مطابق، ملزمان نے ابتدائی طور پر 10 لاکھ روپے رشوت طلب کی، جسے بعد میں کم کر کے ایک لاکھ روپے کر دیا گیا، تاکہ مطلوبہ رپورٹ اور دستاویزات فراہم کی جا سکیں۔
ترجمان کے مطابق، شکایت کنندہ نے بدعنوانی کے آگے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے اے سی بی بارہمولہ سے رجوع کیا، جس کے بعد تصدیق کے بعد مقدمہ درج کر کے ٹریپ آپریشن انجام دیا گیا۔ اس دوران نائب تحصیلدار الطاف حسین خان کو 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے موقع پر گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے رقم بھی برآمد کر لی گئی۔بعد ازاں ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے وقتاً فوقتاً پولیس اور عدالتی تحویل میں بھیجا گیا۔ تحقیقات کے دوران دونوں ملزمان، بشمول پٹواری پردیپ کمار، کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔تحقیقات مکمل ہونے اور جموں و کشمیر کی حکومت سے استغاثہ کی منظوری حاصل کرنے کے بعد، اے سی بی نے دونوں ملزمان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 7 اور 12 کے ساتھ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 61 کے تحت خصوصی جج، انسداد بدعنوانی عدالت بارہمولہ میں چارج شیٹ (چالان) پیش کر دی ہے۔عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت کے لیے 2 مئی 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔