یو این آئی
ہبلی/رانجی ٹرافی 2026 کے فائنل کا پہلا روز مکمل طور پر جموں و کشمیر کے نام رہا۔ ہبلی کے میدان پر بلے بازوں نے اپنی تکنیک اور صبر کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے کرناٹک کے بالرز کو بے بس کر دیا۔رنجی ٹرافی فائنل کے پہلے روز جموں و کشمیر کے بلے بازوں نے کرناٹک کے بالرز کی ایک نہ چلنے دی اور شبھم سنگھ پنڈیر کی ناقابلِ شکست سنچری اور یاور حسین اورعبدالصمد کی نصف سنچریوں کی بدولت میچ پر اپنی گرفت مضبوط اور انتہائی مستحکم کر لی ہے ۔ کھیل کے اختتام تک جموں و کشمیر نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 284 رنز بنائے ہیں۔ اس دن کے ہیرو بائیں ہاتھ کے بلے باز شبھم سنگھ پنڈیر رہے ، جنہوں نے 221 گیندوں پر 117 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ ان کی اس اننگز میں 12 دلکش چوکے اور 2 بلند و بالا چھکے شامل تھے ۔
کامرن اقبال کی جلد رخصتی کے بعد یاور حسن اور شبھم پنڈیر نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ دونوں بلے بازوں نے کرناٹک کے باؤلرز کو تھکا دیا اور دوسری وکٹ کے لیے 139 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ سیزن میں آؤٹ آف فارم رہنے والے یاور حسن نے فائنل کے بڑے اسٹیج پر 88 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر فارم میں واپسی کا ثبوت دیا۔سیزن کے اسٹار عبدالصمد نے احتیاط اور جارحیت کا بہترین امتزاج پیش کیا۔ انہوں نے نہ صرف اچھے شاٹس لگائے بلکہ ایک بار جب وہ سیٹ ہو گئے تو انہوں نے رنز کی رفتار کو تھمنے نہیں دیا۔ اسٹمپس کے وقت عبدالصمد 52 رنز بنا کر شبھم کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ ان کی آمد سے رن بنانے کی رفتار میں مزید تیزی آئی ہے ۔کرناٹک کے تیز گیند بازوں نے بھرپور محنت کی، خصوصاً پرسدھ کرشنا نے اپنی جان لڑا دی اور کئی بار بلے بازوں کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے ، لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ فلیٹ پچ پر اسپنرز، شریاس گوپال اور شیکھر شیٹی رن کی رفتار روکنے میں ناکام نظر آئے ۔ جموں و کشمیر نے آج کے دن کا بہترین استعمال کیا۔ ابتدائی ایک گھنٹے کے دباؤ کے بعد بلے بازوں نے کھل کر اسٹروکس کھیلے ۔ یاور حسن نے اسپنرز کو سیٹل ہونے کا موقع نہیں دیا جبکہ شبھم پنڈیر نے گراؤنڈ کے چاروں طرف شاٹس کھیلے ۔ کل کا دن کرناٹک کے لیے انتہائی اہم ہوگا جہاں انہیں جلد وکٹیں حاصل کرنی ہوں گی۔