رام بن //یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سماج میں کسی بھی ساجی یا اقتصادی تبدیلی کے لئے تعلیم ایک اہم آلہ ہے۔لیکن ضلع کے سکولوں میں انفراسٹریکچر کی کمی ااور تدریسی عملہ کی قلت ہے۔ ضلع کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ضلع کے دور دراز علاقوں میں تعلیم پھیلانے کے لئے سرو شکھشا ابھیان ( ایس ایس اے) اور راشٹریہ مادھیمک شکھشا ابھیان (رمسا ) لانچ کی ہے لیکن ان کے نتائج بہت ہی کم ہیں۔ ان لوگوں نئے مبینہ شکایت کی ہے کہ ضلع میں کام کر رہے 70فیصدی سرکاری پرائمری اور مڈل سکولوں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے کیونکہ ان میں بنیادی انفراسٹریکچر کا فقدان ہے اور سٹاف کی کمی بھی ہے۔رضاکارانہ انجمنوں کی سروے کے مطابق ضلع کے ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کی کار کردگی بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ ان سکولوں میں بنیادی انفراسٹریکچر اور بنیادی سہولیات جیسے کہ پینے کے پانی ،بجلی ،ٹائیلٹ اور کلاس روموں اور لیبارٹریوں وغیرہ کی کمی ہے ۔ان کے مطابق تقریباً تمام سرکاری سکولوں کی حالت خستہ ہے اور جہاں تک تعلیم فراہم کرنے کا تعلق ہے ،ان سکولوں میںحالیہ ٹیکنالوجی کی کمی ہے، جسکی وجہ سے ان سکولوں کے نتائج بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔سروے کے مطابق سرکار ی سکولوں میں زیادہ تر غریب بچے پڑھتے ہیں جو کہ نجی سکولوں کا بھاری فیس ادا نہیں کر سکتے ہیں۔اگر ان سکولوں کی موجودہ حالت کو جاری رہنے دیا گیا تو ہم کیسے یہ توقع کریں گے کہ سرکاری سکولوں کی حالت میں سدھار آئے گا۔ان لوگوں نے ریاست کے گورنر این این ووہرہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکار ی سکولوں کو بنیادی انفراسٹریکچر فرراہم کرنے کے ہدایات اجرا کریں ،تاکہ یہ ادارے بھی نجی سکولوں کا مقابلہ کر سکیں اور شاندار نتائج کا مظاہرہ کریں۔