رام بن بانہال سیکٹر میں تین نئے ڈبل ٹیوب ٹنل منصوبوں کو ہری جھنڈی | ایک ٹنل کا بنیادی کام شروع،آئندہ تین سال میں پروجیکٹ مکمل ہونے کی امید:پروجیکٹ ڈائریکٹر

بانہال // رام بن اور بانہال کے درمیان جموں سرینگر فورلین شاہراہ کو مزید محفوظ بنانے کیلئے نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا نے تین نئے ڈبل لین ٹنلوں کی تعمیر کو ہری جھنڈی دکھائی ہے اور ان میں سے رامسو کے مقام ایک ٹنل کیلئے بنیادی کام شروع بھی کیا کیا گیا ہے۔ اس سیکٹر میں نیشنل ہائے ویاتھارٹی آف انڈیا نے پہلے ہی تقریباًساڑھے تین کلومیٹر کی لمبائی والے پانچ یکطرفہ ٹنلوں کا کام شروع کر رکھا ہے اور ان میں سے چند ایک مکمل بھی کئے گئے لیکن اب دونوں طرف سے ٹریفک کیلئے تین بڑی ٹنلوں کا اعلان لاکھوں مسافروں کیلئے ایک راحت بھرا فیصلہ ہے کیونکہ رام بن بانہال سیکٹر میں سڑک حادثات کے جاری سلسلے کی وجہ سے اس سیکٹر میں بڑے پیمانے پر ڈبل ٹیوب ٹنلوں کی ضرورت کو کشمیر عظمیٰ اور گریٹر کشمیر نے ماضی میں کئی باراپنی سلسلہ وار خبروں کے ذریعے اجاگر کیا ہے اور بالاخر عوامی مانگ کو نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا نے پورا کیا ہے۔ یہ تین بڑے ٹنل ماروگ اور وگن شیر بی بی کے درمیان تعمیر کئے جارہے ہیں اور ان کی لمبائی کم و بیش 16 کلومیٹر ہوگی جو رام بن اور بانہال کے سیکٹر میں سڑک حادثات کیلئے سب سے خطرناک سیکٹر کو ٹنلوں کے ذریعے بائی پاس کرینگے۔اس سلسلے میں بات کرنے پرپروجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا رام بن پرشوتم کمار نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رام بن بانہال سیکٹر میں ٹنل پروجیکٹ کے تین پیکیج کو منظوری مل گئی ہے اور ٹنڈر بھی کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  تین میں سے رامسو اور وگن کے درمیان قریب ساڑھے چھ کلومیٹر لمبی ایک ٹنل کا بنیادی کام شروع کیا گیا ہے جس میں ڈرلنگ اور جیوگرافیکل جانکاری وغیرہ کا کام شامل ہے کو شروع کیا گیا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ ماروگ سے ڈگڈول آنے والے 4.2 (چار اعشاریہ دو ) کلومیٹرلمبے ٹنل پر کوئی زمینی تنازعہ ہے جبکہ ڈگڈول سے مکرکوٹ تک 2.6 ( 2 اعشاریہ 6 ) کلومیٹر اور تین کلومیٹر کی لمبائی پر مشتمل دو ٹنلوں کا ٹنڈرنگ پراسس چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا پہلے ہی تعمیر کئے گئے ٹنلوں کو ان نئے ٹنلوں سے جوڑا جائے گا جبکہ موجودہ شاہراہ کو ایندھن سے لدھے ٹینکروں کیلئے رکھا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹنلوں کی تعمیر میں مزید تین برسوں کا عرصہ لگے گا اور یوں 2024 تک رام بن بانہال سیکٹر میں ان ٹنل پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کی اْمید ہے۔انہوں نے بانہال کے زمینداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بانہال بائی پاس کی تعمیر کے کام میں رخنہ نہ ڈالیں بلکہ اپنے تمام مسائیل کو متعلقہ ایجنسی ، انتظامیہ یا کورٹ کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی طرف سے تعمیراتی کام میں رخنہ ڈالنے کی وجہ سے پہلے سے ہی تاخیر کا شکار بانہال بائی پاس کی تعمیر کے کام میں مزید وقت ضائع ہورہا ہے جو براہ راست  بانہال کی عوام ، تاجر برادری اور ہزاروں مسافروں کیلئے مشکلات کا باعث ہے۔