مبینہ طور زیر قبضہ جنگلاتی اراضی خالی کرنے کی ہدایت،متاثرہ خاندانوں میں تشویش
نواز رونیال
رام بن // ضلع رام بن کے رام بن اور بٹوت فاریسٹ ڈویژنوں میں محکمہ جنگلات کی جانب سے متعدد مقامی رہائشیوں، جن میں گوجر اور بکروال برادری کے افراد بھی شامل ہیں ،تقریباً 500کنبوںکو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان نوٹسوں میں انہیں زیرِ قبضہ جنگلاتی اراضی خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نوٹسیں جاری ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے اس زمین پر آباد ہیں اور ان کا ذریعۂ معاش بھی اسی زمین سے وابستہ ہے۔مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ غریب اور قبائلی برادریوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی کارروائی سے قبل ان کی طویل عرصے سے موجود رہائش، سماجی حالات اور معاشی مشکلات کو مدِنظر رکھا جائے۔ گوجر اور بکروال برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ وہ نسلوں سے ان علاقوں میں پُرامن طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں، اور اگر بے دخلی کی مہم چلائی گئی تو انہیں اپنے گھروں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔یہ معاملہ سیاسی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے اور مقامی نمائندے عوام کو یقین دہانی کرانے کے لیے سامنے آئے ہیں۔ رکن اسمبلی رام بن، ایڈوکیٹ ارجن سنگھ راجو نے متاثرہ افراد کے خدشات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 1975سے جنگلاتی اراضی پر آباد کسی بھی شخص کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کے حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور انتظامیہ اس معاملے میں انسانی ہمدردی اور انصاف پر مبنی رویہ اختیار کرے گی۔انہوں نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں پر زور دیا کہ سرسبز جنگلات کی غیر قانونی کٹائی پر مکمل روک لگائی جائے اور ہر سال زیادہ سے زیادہ شجرکاری مہم چلائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے گزارش کی کہ دہائیوں سے آباد غریب لوگوں کو بلاوجہ پریشان نہ کیا جائے۔ایڈوکیٹ ارجن سنگھ راجو نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر حکومت جنگلاتی اراضی پر آباد افراد، خصوصاً قبائلی اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے ایک واضح اور منصفانہ پالیسی مرتب کرے گی تاکہ حقیقی اور مستحق رہائشی اپنے گھروں سے محروم نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے فارسٹ رائٹس ایکٹ نافذ کرنے کے دعوے اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو مالکانہ حقوق دینے کے بجائے انہیں پریشان کیا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔