تھنہ منڈی // تھنہ منڈی میں بلاک کانگریس کمیٹی کی طرف مخلوط سرکار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا ۔ اس دوران ایک ریلی بھی نکالی گئی جس میں تحصیل تھنہ منڈی کے کثیر تعداد میں کانگریس کارکنان نے شرکت کی ۔ یہ ریلی ٹاؤن ہال سے شروع ہوکر شال مارکیٹ سے ہوتے ہوئے غزالی چوک میں اختتام پذیرہوئی۔انہوںنے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ اس موقعہ پر شکیل احمد میر، محمد یونس خان، محمد اعظم خان، محمد صابر، مولوی محمد شفیق، امام جامع مسجد عظمت آباد د شوکت حسین چوہدری، شبیر احمد چوہدری، اعجاز احمد کٹاریہ،سابق سرپنچ عبداللہ خان نے کہا کہ ریاست میں سرکار نام کی کوئی چیز نہیںاور کانگریس کے دور میں جوکام شروع ہوئے ،انہیں ٹھپ کردیاگیاہے ۔ کانگریس لیڈران نے کہا کہ سال 1982 میں تھنہ منڈی میں پرائمری ہیلتھ سنٹر قائم کیا گیا جس کا آج تک درجہ نہیں بڑھا یا گیاجبکہ ریونیو کمپلیکس کی عمارت بوسیدہ ہوچکی ہے جسکی دوبارہ تعمیر نہ ہو سکی ہے اوریہ عمارت غیر محفوظ ہے جو کسی بڑے حادثے کی منتظر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس عمارت کو منی سیکر یٹریٹ میں تبدیل کیا جائے ۔انہوںنے کہاکہ لوگوں کو کھانڈتو پہلے سے ہی نہیں مل رہی تھی جبکہ راشن بھی اب نایاب ہوچکاہے ۔ان کاکہناتھاکہ محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت سڑکوں کی تعمیر کی زد میں آنے والی زمینوں کا معاوضہ نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سرکار میں بجلی کے کرائے دوگناہو چکے ہیں جو غریب شہریوں پر بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجوری میں دوسال قبل منی سکریٹریٹ کی عمارت کا کام شروع ہوا تھا جسکو التوا میں رکھا گیاہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس منی سکریٹریٹ کو سازش کر کے کسی دوسری جگہ منتقل کیا جا رہاہے لیکن ایسا کبھی نہیںہونے دیاجائے گا۔ انہوں نے تھنہ منڈی میں ایمر جنسی و فائر سروسز کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ پنچایت راجوری کا دفتر مکمل فروخت ہوچکا ہے۔ احتجاج کے دوران راجوری۔ تھنہ۔منڈی سڑک پر ٹریفک کی آمدورفت بند رہی جس کی وجہ سے مسافروں اور شاہدرہ شریف کو جانے والے زائرین کو مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔