عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو) راجوری میں ’پاور پولیٹکس، عوامی بیانیہ اور جنوبی ایشیا میں ادارہ جاتی حرکیات‘ کے موضوع پر ایک فکر انگیز اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام جموں و کشمیر حق انصاف کونسل کے بینر تلے منعقد ہوا، جو ایک امن سازی اور شہری شعور سے وابستہ پلیٹ فارم ہے اور جس کی قیادت ایڈووکیٹ ذیشان سید کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کے اس پہلے مکالمے کا مقصد باخبر عوامی گفتگو، جمہوری اقدار اور ادارہ جاتی جوابدہی کو فروغ دینا تھا، خاص طور پر سرحدی اور تنازعہ سے متاثرہ علاقوں کے تناظر میں۔تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد آپریشن سندور میں جان قربان کرنے والے بہادروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس باوقار آغاز نے آئینی ذمہ داری، قومی قربانی اور انسانی وقار کے احترام پر مبنی مباحثے کی بنیاد رکھی۔مکالمے میں جموں و کشمیر کے مختلف حصوں سے ممتاز ماہرین تعلیم، صحافیوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی نمائندوں نے شرکت کی۔ نمایاں شرکاء میں پروفیسر اشوک آئمہ، سلیم بیگ، پروفیسر کرن مینی، ڈاکٹر علی اصغر شاہ، ایڈووکیٹ اوما کپاھی، جاوید بیگ، سمیت بھارتیو اور آزاد راحت شامل تھے۔ نظامت کے فرائض طاہر مصطفیٰ ملک نے انجام دئیے جبکہ استقبالیہ خطاب ساجد آرائیں نے پیش کیا۔ مقررین نے مدلل اور حقائق پر مبنی آراء پیش کرتے ہوئے سنجیدہ جمہوری مکالمے کی اہمیت اجاگر کی۔نشست میں غلط معلومات کے بڑھتے رجحان اور اس کے نوجوانوں پر اثرات، سرحدی اضلاع میں زمینی حقائق اور عوامی بیانیے کے فرق، انسانی حقوق اور شفاف حکمرانی، خواتین قیادت کے ابھرتے کردار اور تنازعہ سے فائدہ اٹھانے والے عناصر کے منفی اثرات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مقررین نے ذمہ دار میڈیا، مضبوط اداروں اور جامع طرز حکمرانی کو پائیدار امن کے لئے ناگزیر قرار دیا۔ایڈووکیٹ ذیشان سید نے خطاب میں خطے میں بدامنی کے عوامل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نوجوانوں کا باشعور اور متحرک کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقائق پر مبنی مکالمہ ہی منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب بن سکتا ہے۔پروگرام میں بی جی ایس بی یو کے طلبہ، محققین، اساتذہ اور مختلف اضلاع سے آئے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ منتظمین نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے علمی اور شہری مکالموں کے تسلسل کے عزم کا اظہار کیا۔