گھمبیرمغلاں علاقہ گونج اٹھا، سیکورٹی فورسز کا جنگلاتی پٹی میں سخت محاصرہ برقرار
سمت بھارگو
راجوری،//راجوری ضلع کے گھمبیر مغلاں علاقے کے دھوری مہل کے گھنے جنگلات میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی آپریشن پیر کے روز دسویں دن میں داخل ہو گیا۔ آپریشن کے دوران دن بھر تازہ فائرنگ اور متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور قریبی دیہات میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔مقامی ذرائع کے مطابق صبح سے ہی جنگلاتی علاقے کی مختلف سمتوں سے وقفے وقفے سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ دھماکوں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ ان کی گونج دور دراز علاقوں تک محسوس کی گئی، جبکہ گھمبیرمغلاں اور ملحقہ دیہات کے رہائشی دن بھر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے دھوری مہل کے گھنے جنگلاتی علاقے کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے اور دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع کے بعد سرچ اور کومبنگ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں کیونکہ جنگلات کا دشوار گزار اور گھنا علاقہ آپریشن کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔فوجی اور سیکورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں فوج، اسپیشل فورسز، جموں و کشمیر پولیس، اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) اور سی آر پی ایف کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ پورے جنگلاتی علاقے کو کثیر سطحی حفاظتی حصار میں لے لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔اگرچہ فائرنگ اور دھماکوں کی مسلسل آوازیں آپریشن کے جاری رہنے کی نشاندہی کر رہی ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے پیر کی شام تک آپریشن کی تازہ صورتحال، کسی ممکنہ کامیابی یا جانی نقصان کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ یہ آپریشن تقریباً دس روز قبل دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ تب سے سیکورٹی فورسز علاقے میں مسلسل سرچ آپریشن انجام دے رہی ہیں اور جنگلاتی پٹی میں مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی ہے کہ جاری آپریشن جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا اور علاقے میں مکمل امن و امان بحال ہوگا۔ دریں اثنا، انتظامیہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آپریشن کے علاقے سے دور رہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔