جاوید اقبال
راجوری/پونچھ//رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے موقع پر ضلع پونچھ کے سرحدی قصبہ مینڈھر سمیت راجوری و پونچھ کے مختلف علاقوں میں روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے، جہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے مساجد کا رخ کر کے نمازِ جمعہ ادا کی۔ مرکزی جامع مسجد مینڈھر میں سب سے بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا جہاں ہزاروں فرزندانِ اسلام نے عقیدت و احترام کے ساتھ نماز ادا کی اور ماہِ صیام کی برکتوں سے مستفید ہونے کی دعائیں کیں۔نمازِ جمعہ کے موقع پر مسجد اور اس کے اطراف میں روحانی منظر قابل دید تھا۔ نمازیوں کی بڑی تعداد کے باعث مسجد کے صحن، اطرافی گلیوں اور کھلی جگہوں میں بھی صفیں بچھائی گئیں۔ نمازیوں نے ملک و قوم کی سلامتی، خطے میں امن و استحکام اور انسانیت کی بھلائی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں۔
نماز سے قبل مرکزی جامع مسجد مینڈھر کے امام و خطیب نے اپنے خطاب میں اہلِ اسلام کو رمضان المبارک کی دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس بابرکت مہینے کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک صبر، تقویٰ، عبادت، ایثار اور باہمی محبت کا درس دیتا ہے اور یہ مہینہ انسان کو اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ رمضان کے دوران صرف روزہ رکھنا ہی کافی نہیں بلکہ اپنے اخلاق، رویوں اور معاملات کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔ امام و خطیب نے کہا کہ نماز کی پابندی، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور ضرورت مندوں کی مدد اس مہینے کی اصل روح ہے، جس کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔خطاب کے دوران سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راجوری و پونچھ جیسے کثیر الثقافتی خطے میں باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ امن اور بھائی چارے کی فضا برقرار رہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو بھی تلقین کی کہ وہ عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔رمضان کے پہلے جمعہ کے موقع پر راجوری، تھنہ منڈی، سرنکوٹ، مینڈھر اور دیگر علاقوں کی مساجد میں بھی بڑی تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی، جس سے پورے خطے میں مذہبی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں کی جانب سے نمازیوں کی سہولت کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے تاکہ عبادت گزاروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔علمائے کرام نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ رمضان المبارک کا اصل پیغام انسانیت، برداشت اور خیر خواہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس مقدس مہینے میں نفرت، اختلاف اور برائیوں سے دور رہتے ہوئے محبت، صبر اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔