سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں دھان کی بوائی کے موسم کے آغاز پر کسانوں نے روایتی انداز میں مٹی میلہ منعقد کرکے علاقے کی قدیم زرعی ثقافت اور روایات کو زندہ کر دیا۔ اس منفرد اور روایتی تہوار میں ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی اور اپنی زرعی وابستگی اور ثقافتی ورثے کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔
یہ روایتی میلہ ہر سال ضلع کے مختلف علاقوں میں دھان کی بوائی کے آغاز کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے، جس کا مقصد نہ صرف زرعی سرگرمیوں کے آغاز کا جشن منانا ہوتا ہے بلکہ کسانوں کے درمیان باہمی اتحاد، ثقافتی ہم آہنگی اور روایتی طرزِ زندگی کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔حال ہی میں ایسا ہی ایک رنگا رنگ میلہ راجوری کے گوردان گاؤں میں منعقد کیا گیا جہاں ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے کسانوں نے اپنے بیلوں سمیت شرکت کی۔ میلے میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز روایتی بیل دوڑ مقابلہ رہا، جس میں کسانوں نے پانی اور کیچڑ سے بھرے دھان کے کھیتوں میں اپنے بیل دوڑائے۔مقابلے کے دوران کسان مخصوص فاصلے تک اپنے بیلوں کو تیزی سے دوڑاتے دکھائی دیے جبکہ حاضرین نے جوش و خروش کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی۔ مقابلے میں حصہ لینے والی ٹیموں کے درمیان سب سے تیز رفتار بیلوں کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ اس منفرد منظر نے مقامی لوگوں اور شائقین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔میلے میں درجنوں کسانوں اور ان کے پالتو جانوروں نے حصہ لیا۔ اس دوران مقامی ثقافت، دیہی طرزِ زندگی اور روایتی زرعی طریقوں کی خوبصورت جھلک دیکھنے کو ملی۔ بزرگوں کا کہنا تھا کہ اس قسم کے تہوار نہ صرف ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کو اپنی روایات سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق جدید دور میں زرعی مشینری کے بڑھتے استعمال کے باوجود اس طرح کے روایتی میلوں کا انعقاد دیہی زندگی کی اصل روح کو برقرار رکھنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔ کسانوں نے کہا کہ دھان کی بوائی ان کے لیے صرف زرعی سرگرمی نہیں بلکہ خوشی، امید اور محنت کے نئے سفر کا آغاز بھی ہوتی ہے۔میلے کے دوران بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جنہیں لوگوں کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے راجوری کے اس منفرد ثقافتی اور زرعی تہوار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی روایات جموں و کشمیر کی ثقافتی شناخت کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔شرکاء نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے روایتی میلوں کا انعقاد جاری رہے گا تاکہ نئی نسل اپنی ثقافت، زرعی روایات اور دیہی زندگی سے جڑی رہے۔