ملی ٹینٹوں کی تلاش کیلئے اضافی دستے تعینات، وقفے وقفے سے فائرنگ جاری
سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے دھوری مہل کے گھنے جنگلات میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی آپریشن ہفتہ کے روز آٹھویں مسلسل دن میں داخل ہو گیا، جہاں سیکورٹی فورسز مبینہ طور پر چھپے ہوئے ملی ٹینٹوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تلاشی اور جنگی کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شروع کیے گئے ایک خصوصی آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کا ملی ٹینٹوںسے آمنا سامنا ہوا تھا۔ اس آپریشن کو ’آپریشن شیرووالی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ابتدائی جھڑپ کے بعد علاقے میں وسیع پیمانے پر انسدادِ ملی ٹینسی کارروائی کا آغاز کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق دھوری مہل اور اس سے ملحقہ جنگلاتی علاقوں کو مکمل طور پر سیکورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے۔
فوج، جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں مشترکہ طور پر دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں، جس کے باعث آپریشن کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔سیکورٹی فورسز نے آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے لئے اضافی دستوں کو بھی متاثرہ علاقے میں تعینات کیا ہے۔ جدید نگرانی کے آلات، ڈرونز اور دیگر تکنیکی وسائل کی مدد سے جنگلات کے اندر گہرائی تک سرچ آپریشن جاری رکھا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور انہیں فرار ہونے کا کوئی موقع نہ ملے۔ہفتہ کے روز بھی انکاؤنٹر زون سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان رابطہ برقرار ہے تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔حکام کے مطابق علاقے میں سیکورٹی ہائی الرٹ پر رکھی گئی ہے اور حساس مقامات پر اضافی نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔ فورسز کی کوشش ہے کہ ملی ٹینٹوںکے ممکنہ فرار کے تمام راستوں کو بند رکھا جائے اور پورے جنگلاتی علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے۔مقامی ذرائع کے مطابق آپریشن کے باعث قریبی علاقوں میں نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ شہریوں کو مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع سیکورٹی اداروں کو دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر ہی اعتماد کریں۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن اپنے حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور فورسز ملی ٹینٹوںکو گھیرے میں لینے کیلئے مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک پورے علاقے کی مکمل تلاشی نہیں لی جاتی اور تمام خطرات کا خاتمہ یقینی نہیں بنا لیا جاتا، تب تک آپریشن جاری رہے گا۔علاقے کے عوام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز جلد ہی اس طویل آپریشن کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے خطے میں امن و امان کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب ہوں گی۔