سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری اور پونچھ میں ہفتہ کے روز مسلسل تیسرے دن بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث سرحدی اضلاع میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق دن بھر کہیں ہلکی اور کہیں درمیانی جبکہ متعدد علاقوں میں موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے ٹریفک کی روانی، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ کے معمولات پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔راجوری اور پونچھ کے بیشتر علاقوں میں صبح سے وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی، جبکہ شام کے وقت کئی مقامات پر شدید بارش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
راجوری ضلع میں شام کے اوقات میں تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تیز بارش نے شہری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ بارش کی شدت کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جبکہ بازاروں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر غیر معمولی سناٹا دیکھنے کو ملا۔شدید بارش کے باعث مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ کئی مقامات پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت سست پڑ گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ کسی بڑے جانی نقصان یا حادثے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مسلسل بارش نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔دوسری جانب ضلع پونچھ کی سب ڈویژن مینڈھر میں بھی موسلا دھار بارش نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے متعدد رابطہ سڑکیں زیرِ آب آ گئیں، جس کے باعث پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں کے مطابق چند گھنٹوں کی شدید بارش نے کئی علاقوں میں نکاسی آب کے ناقص انتظامات کو بے نقاب کر دیا۔مینڈھر کے ڈاک بنگلہ علاقے میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک رہی، جہاں شدید بارش کے بعد سڑک پر تقریباً ایک میٹر تک پانی جمع ہو گیا۔ پانی بھر جانے کے باعث کئی گاڑیاں درمیان راستے میں پھنس گئیں جبکہ ٹریفک کی آمدورفت طویل وقت تک متاثر رہی۔
مقامی شہریوں نے متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ ہر بارش کے دوران عوام کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔بارش کے دوران بازاروں میں خریداروں کی تعداد بھی معمول سے کم رہی جبکہ متعدد دکانداروں نے وقت سے پہلے اپنی دکانیں بند کر دیں۔ سرحدی دیہی علاقوں میں بھی بارش کے باعث لوگوں کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور کئی مقامات پر کچے راستے پھسلن کا شکار ہو گئے۔ادھر محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں آئندہ بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ کے مطابق بعض علاقوں میں درمیانی سے شدید بارش ریکارڈ کی جا سکتی ہے، جس کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، اچانک سیلابی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ضلع انتظامیہ نے عوام، بالخصوص نشیبی علاقوں اور ندی نالوں کے کنارے رہنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، موسمیاتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ محکموں سے فوری رابطہ کریں۔ انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ رہنے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
مینڈھر بازار موسلا دھار بارش کے بعد تالاب میں تبدیل
تاجر طبقہ شدید متاثر،بند نالیاں اور ادھورا نکاسی آب منصوبہ ذمہ دار قرار
تاجر طبقہ شدید متاثر،بند نالیاں اور ادھورا نکاسی آب منصوبہ ذمہ دار قرار
جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر میں ہفتہ کے روز ہونے والی طوفانی بارش نے قصبہ مینڈھر کی مرکزی سڑک کو تالاب کا منظر پیش کرنے پر مجبور کر دیا، جہاں بارش کا پانی کئی فٹ تک جمع ہونے کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے۔ سڑک پر پانی جمع ہونے سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر رہی، جبکہ بازار میں کاروباری سرگرمیاں بھی خاصی حد تک ماند پڑ گئیں۔مقامی لوگوں کے مطابق چند گھنٹوں کی موسلا دھار بارش کے بعد قصبہ کی مرکزی سڑک مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث راہگیروں کو پانی میں سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑا۔
کئی مقامات پر پانی اتنا زیادہ جمع ہو گیا کہ چھوٹی گاڑیوں اور دو پہیہ گاڑیوں کو گزرنے میں دشواری پیش آئی، جبکہ بعض دکانداروں نے احتیاطاً اپنی دکانوں کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر دیں تاکہ پانی اندر داخل نہ ہو سکے۔شہریوں نے اس صورتحال کی بنیادی وجہ نالیوں کی بندش اور بروقت صفائی نہ ہونے کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قصبہ میں نکاسی آب کا نظام عرصہ دراز سے نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہر بار بارش کے دوران یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں نے متعلقہ محکمہ اور ضلعی انتظامیہ پر غفلت برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر نالیوں کی وقت پر صفائی کی جاتی تو سڑکوں پر پانی جمع نہ ہوتا اور عوام کو اس قدر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔دوسری جانب دکاندار طبقہ نے بھی حکومت اور متعلقہ محکمہ کی کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ نکاسی آب کی بہتری کے لیے پہلے ایک ٹینڈر جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت کچھ کام ضرور کیا گیا، لیکن منصوبہ مکمل ہونے سے قبل ہی کام روک دیا گیا اور اس کے بعد دوسرا ٹینڈر جاری نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ادھورا کام ہی آج کے مسائل کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔دکانداروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی بارش رات کے وقت ہوتی تو پانی آسانی سے دکانوں کے اندر داخل ہو جاتا، جس سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت رہے کہ بارش دن کے وقت ہوئی اور انہیں بروقت حفاظتی اقدامات کا موقع مل گیا، ورنہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔مقامی شہریوں اور تاجروں نے انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ قصبہ مینڈھر میں بند نالیوں کی فوری صفائی کرائی جائے، نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور ادھورے ترقیاتی منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے فوری طور پر دوسرا ٹینڈر جاری کیا جائے تاکہ آئندہ مون سون کے دوران عوام اور تاجروں کو بار بار ایسی مشکلات اور ممکنہ مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ ہونے والی مزید بارشیں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں، جس سے نہ صرف بازار بلکہ رہائشی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا مستقل اور مؤثر حل نکالا جائے تاکہ مینڈھر قصبہ ہر بارش کے بعد ’تالاب‘ میں تبدیل ہونے سے بچ سکے۔
بارش سے سلواہ سڑک کا پل تیز ریلے میں بہہ گیا، ہزاروں افراد کا رابطہ منقطع
طلبہ، مریض اور روزانہ سفر کرنے والے افراد مشکلات سے دوچار،فوری تعمیرِ نو کا مطالبہ
طلبہ، مریض اور روزانہ سفر کرنے والے افراد مشکلات سے دوچار،فوری تعمیرِ نو کا مطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر میں حالیہ طوفانی بارش نے جہاں معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا، وہیں تیز بہاؤ نے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مسلسل بارش کے دوران آنے والے شدید پانی کے ریلے سے سلواہ سڑک پر واقع اہم پل بہہ گیا، جس کے نتیجے میں علاقے کے ہزاروں افراد کا زمینی رابطہ متاثر ہو گیا ہے اور عوام کو روزمرہ کی نقل و حرکت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق مسلسل بارش کے باعث ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو گئی، جس سے تیز رفتار ریلے نے سلواہ سڑک پر قائم پل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
چند ہی لمحوں میں پل مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے بعد اس سڑک پر ہر قسم کی آمدورفت بند ہو گئی۔پل کے بہہ جانے سے سلواہ اور اس سے ملحقہ متعدد دیہات کا تحصیل ہیڈکوارٹر مینڈھر سے رابطہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ پل علاقے کی اہم رابطہ کڑی تھا، جس کے ذریعے روزانہ سینکڑوں افراد تعلیم، علاج، تجارت اور دیگر ضروری کاموں کے لیے مینڈھر آتے جاتے تھے۔ پل کی تباہی کے بعد لوگوں کو کئی کلومیٹر طویل متبادل راستوں سے سفر کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ سفری اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ طلبہ کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ مریضوں اور بزرگ شہریوں کے لیے صورتحال مزید تشویشناک بن گئی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال تک بروقت پہنچنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جس پر مقامی آبادی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مونسون کے موسم میں ہر سال ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث ایسے خطرات پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور پائیدار انداز میں تعمیر کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے نقصانات سے بچا جا سکے۔عوام نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعمیرات عامہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ مقام کا فوری سروے کر کے پل کی تعمیرِ نو کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک پل دوبارہ تعمیر نہیں کیا جاتا، اس وقت تک عوام کی سہولت کے لیے عارضی متبادل انتظامات کیے جائیں تاکہ آمدورفت بحال ہو سکے۔علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے گی اور متاثرہ پل کی ازسرنو تعمیر کے لیے ضروری فنڈز اور وسائل فراہم کرے گی تاکہ ہزاروں لوگوں کی مشکلات کا جلد از جلد ازالہ ہو سکے اور علاقے کا تحصیل ہیڈکوارٹر سے رابطہ دوبارہ بحال ہو جائے۔