گور نمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ،احتیاط برتنے کی اپیل
سمت بھارگو
راجوری//سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری خشک اور شدید سرد موسمی حالات نے عوامی صحت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں، جس کے نتیجے میں سانس سے متعلق بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق خاص طور پر بچے اور بزرگ افراد اس موسم سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش نہ ہونے کے باعث فضا میں گرد و غبار کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ خشک سردی نے الرجی اور سانس کی تکالیف کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری اور دیگر سرکاری و نجی صحت مراکز میں او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زیادہ تر مریض سانس کی الرجی، دمہ، سانس لینے میں دشواری، گلے کی سوزش اور کھانسی جیسی شکایات کے ساتھ ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ مسلسل خشک سرد ہوا اور گرد آلود ماحول ان بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے، جس نے کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو زیادہ متاثر کیا ہے۔جی ایم سی سے وابستہ ہسپتال راجوری کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جاوید اقبال نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خشک سرد موسم کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مناسب گرم لباس استعمال کریں، خصوصاً صبح اور شام کے اوقات میں سردی سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دیں۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے مزید مشورہ دیا کہ لوگ باقاعدگی سے نیم گرم پانی کا استعمال کریں اور قوت مدافعت بڑھانے والی غذاؤں اور ادویات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ موسمی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گرد و غبار اور ٹھنڈی ہوا سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کی جائے، خاص طور پر وہ افراد جو پہلے ہی سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔محکمہ صحت نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ اگر کسی فرد کو سانس لینے میں دشواری، مسلسل کھانسی، سینے میں جکڑن یا الرجی کی علامات طویل عرصے تک برقرار رہیں تو فوری طور پر قریبی صحت مرکز سے رجوع کریں اور خود سے علاج کرنے سے گریز کریں۔علاقے کے شہریوں نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت مراکز میں ادویات اور طبی سہولیات کی دستیابی کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق جب تک بارش نہیں ہوتی، خشک سردی کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے پیش نظر احتیاط ہی بہترین علاج ہے۔