منڈی//تحصیل حویلی کے سرحدی اور پسماندہ گاؤں بانڈی چچیاں کے مختلف محلہ جات میں پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے ۔ اَپر بانڈی چیچیاں کے شہریوں امتیاز اقبال شاد، الطاف حسین اورمحمد عارف وشاہ محمد نے بتایا کہ پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے اورایک ہی چشمہ ہے جس سے بھی پانی 70 فیصد سوکھ چکا ہے ۔ان کاکہناہے کہ سینکڑوں افراد اور ہزاروں مویشیوں کا انحصار اسی چشمے پر ہے ۔ان کاکہناہے کہ پانی کی اس سنگین صورتحال کے بارے میں متعدد مرتبہ محکمہ پی ایچ ای سے بات کی گئی لیکن اسے ٹس سے مس نہیںہوئی ۔ رمضان المبارک میں لوگ افطاری کے وقت بھی پانی کی ایک ایک گھونٹ کے لئے ترس رہے ہیں اور مال مویشی پیاس کی شدت سے جان گنوانے کے قریب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقہ میں قریب پر کوئی نالہ یا کوئی اور پانی کا ذریعہ نہیں اوران کا سارا انحصار اسی چشمے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقہ کی عوام کو سرحدی گولہ باری کے ساتھ ساتھ پانی کی بوند بوند کیلئے ترسا کر مارا جا رہا ہے جس سے علاقہ میں سخت پریشانی کا عالم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آدمی اگر سحری کھاتے ہی چشمہ پر پانی لینے جاتاہے تو دن کے دو بجے اس کا نمبر لگتا ہے ۔ان کے مطابق لوگوں کو اس چشمہ سے پانی لینے کے لئے راتوں کی نیند بھی حرام کرنا پڑ رہی ہے اور اس ماہ مقدس میں بھی عبادات سے محروم رہنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانی یہاں سونے سے بھی زیادہ قیمتی بن چکاہے۔ عوام نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد سے اپیل کی کہ وہ ایک بار اس گاؤں کا دورہ کرکے عوام کی مشکلات کو دیکھیں اور پانی کی سپلائی فراہم کرنے کے اقدامات کریں۔ان کاکہناتھاکہ ان کی طرف سے تشکیل دی گئی ٹیم اس علاقے پر خصوصی توجہ دی جائے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ کی جانب سے رمضان المبارک میں پانی دستیاب نہ کیا گیا تو وہ عید کے موقعہ پر مع مال و عیال سڑک پر احتجاج کریںگے۔