نسل پرستی کے الزامات سے میچ متاثر
یواین آئی
لزبن/برازیلین اسٹار وینیشیئس جونیئر کے سنسنی خیز گول کی بدولت رئیل میڈرڈ نے چیمپئنز لیگ پلے آف کے پہلے مرحلے میں بنفیکا کو 1-0 سے شکست دے دی۔ تاہم، اس تاریخی فتح پر اس وقت سیاہ بادل چھا گئے جب میچ کے دوران مبینہ طور پر وینیشیئس کو نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث کھیل 10 منٹ سے زائد دیر تک معطل رہا۔میچ کا فیصلہ کن لمحہ 50ویں منٹ میں آیا جب وینیشیئس جونیئر نے ڈی ایریا کے بائیں جانب سے ایک ناقابل یقین شاٹ لگایا جو سیدھا گول کے اوپری کونے میں جا گرا۔ گول کے بعد وینیشیئس نے بنفیکا کے تماشائیوں کے سامنے ڈانس کر کے جشن منایا، جس پر انہیں یلو کارڈ دکھایا گیا۔ اسی دوران ان کا بنفیکا کے کھلاڑی گیانلوکا پریسٹانی (Gianluca Prestianni) سے جھگڑا ہوا۔ وینیشیئس نے ریفری سے شکایت کی کہ پریسٹانی نے انہیں “بندر” کہا ہے ۔ فرانسیسی ریفری فرانکوئس لیٹیکسیئر نے فوری طور پر ‘نسل پرستی کے خلاف پروٹوکول’ نافذ کر دیا اور میچ کو تقریباً 10 منٹ تک روک دیا گیا۔بنفیکا کے کوچ جوز موریہنو، جو ماضی میں رئیل میڈرڈ کے کامیاب کوچ رہ چکے ہیں، کے لیے یہ میچ تلخ رہا۔ میچ کے آخری لمحات میں موریہنو کو ریفری سے سخت احتجاج کرنے پر ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔ اس ریڈ کارڈ کی وجہ سے وہ اگلے ہفتے سینٹیاگو برنابیو (رئیل میڈرڈ کا ہوم گراؤنڈ) میں ہونے والے دوسرے مرحلے کے میچ میں اپنی ٹیم کے ساتھ نہیں ہوں گے ۔رئیل میڈرڈ کے مڈ فیلڈر اورلین چوآ مینی نے تصدیق کی کہ وینیشیئس نے ٹیم کو بتایا کہ حریف کھلاڑی نے اپنی شرٹ سے منہ ڈھانپ کر انہیں توہین آمیز لفظ کہے ۔