دنیا اور اس کی حقیقت ہم سب انسانوں کے سامنے عیاں ہے ۔ چہ جائیکہ وہ کس مذہب و ملت، رنگ و نسل، زبان ،لباس اور علاقے سے تعلق رکھتا ہو ۔ ہر ایک انسان بخوبی واقف ہے کہ ہماری یہاں چند سال کی زندگی گزارنے کے بعد موت کا مزہ ضرور بالضرور چکھنا ہے۔ جس سے دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والے انسان کو انکار کرنا ممکن نہیں۔ یہاں کی اس مختصر سی زندگی کے خاتمے کے بعد بہرحال انسان کی زبان سے’ یہ دنیا فانی ہے‘ جیسے کلمات نکل ہی جاتے ہیں۔ اس طرح اللہ رب العالمین اپنے بندے کو اس حقیقت سے روشناس کرتا ہے۔ خالق ِ کائنات نے انسان کی رہ نمائی کے لئے قرآن کریم اور معلم اعظم، مُحسنِ انسانیت، پیغمبر الآخرالزمان، رحمت للعالمین، امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم سے قبل از وقت اُمت مسلمہ کو اس بات سے روشناس کر دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے‘‘۔ (النحل ؛ ۹۶)
چونکہ موت سے غفلت برتنے کی پاداش میں ہم سب دنیا کے رنگ و روغن پھولوں، دلکش باغوں، برف پوش کوہساروں، شیشہ زار آبشاروں، نیلی جھیلوں اور پُر فِضا وادیوں میں گم ہو چکے ہیں۔ اِن حسین وادیوں میں یہ دل لگی، باغوں میں سجے میلے، آبشاروں کے یہ پُر رونق مناظر بس جز وقتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انسان، اس کے آرزو اور موت کے درمیان قائم رشتہ کو ریاضی کی زبان میں اس طرح سمجھایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لکیروں کے ذریعے ایک مربع شکل بنائی اور اس کے درمیان میں ایک لمبی لکیر کھینچی، جو اس مربع شکل سے کچھ باہر نکل گئی۔ پھر اس درمیانی لکیر کے دائیں و بائیں جانب کچھ چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ درمیانی لکیر انسان ہے اور مربع کی شکل اس کی موت ہے، جس نے انسان کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے اور یہ مربع سے باہر کو نکلی ہوئی لکیر انسان کی لمبی آرزو ہے ،جو موت سے بھی آگے ہے ۔موت آجاتی ہے لیکن لمبی آرزو اور تمنائیں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور یہ دائیں و بائیں جانب کی چھوٹی چھوٹی لکیریں انسان پر آنے والے مصائب و امراض ہیں۔ اگر وہ ایک مصیبت سے بچتا ہے تو دوسری آجاتی ہے اور دوسری سے بچتا ہے تو تیسری آجاتی ہے ۔" (صحیح البخاری)یہ دنیا بس ایک مہمان خانہ کی طرح ہے، جس میں مختلف قسم کے کھیل کود کے تماشے سجائے رکھے ہوئے ہیں اور زینت کے طور پر آرائش رکھی گئی ہے۔ اِسی کھیل کود اور آرائش میں ہمیں اپنی زندگی کو صحیح معنی میں جان لینا ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ' دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال ' ہے۔ (الحدید؛ ۲۰)
یہ خوشیاں، آسائش، آرائش، دولت بس ایک امتحان ہے۔ اسی طرح یہاں کے غم و پریشانیاں، تکلیف و اِفلاس تو بس ایک آزمائش ہے کہ بندۂ خدا ان سب حالات میں کیا کرتا ہے۔ وہ اپنے دل میں کس کے لیے آما جگاہ بناتا ہے۔ رب الزوجلال کو دراصل یہ دیکھنا مطلوب ہے کہ کیا اس کا بندہ تخلیق کی طرف جھُکتا ہے یا تخلیق کار کی طرف ہو جاتا ہے۔
کامیاب و کامران تو بس وہ انسان ہوا جو اپنے حقیقی معبود کو پہچان پایا اور جس نے دُنیا میں اپنے آنے کا صحیح مقصد جان لیا۔ ایسے انسانوں کو دینِ اسلام پر عمل پیرا ہونے پر انعامات سے مالا مال ہونے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی زندگی عطا کی جائے گی جو حیاتِ طیبہ ہو ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " جو بھی صاحب ایمان مرد ہو یا عورت نیک عمل کر کے آوے تو ہم ایسے لوگوں کو حیات طیبہ عطا کریں گے"۔ (النحل ؛ ۹۷)
حیات طیبہ پانے والے با ایمان مرد و عورتیں ایک خاص قسم کی زندگی گزارنے والے بندے بن جائیں گے۔ ان کی زندگی گناہوں سے پاک ہوگی، انہیں ہر قسم کی فراوانی میسر ہوگی ، جس میں چین و سکون، خیر و عافیت، غم و پریشانی سے نجات، نیک و فرمانبردار عیال، حلال و آسان روزی، حُب ِالٰہی، اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم، ذکرِ قلب و شکر زبان شامل ہیں ۔ اس کے بعد اس سے خوشحال اخروی زندگی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
الغرض دنیا کی محبت سے عملِ صالح ضائع ہو جاتے ہیں اور حد سے زیادہ مشغول رہنے سے دنیا کی عظمت دل میں گھر کر جاتی ہے جب کہ آخرت سے ایمان و یقین ختم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کی محبت دل سے آہستہ آہستہ کم کریں اور دنیا کی اس حقیقت کو پیش نظر رکھے، جسے ہم فراموش کر چکے ہیں۔ ہمیں اصل انجام سے کبھی بے خبر نہیں ہونا چاہئے۔ بلاشبہ یہاں کی یہ مختصر کی زندگی کے بعد اخروی اور ابدی زندگی آنے والی ہے، جس کے لئے ہمیں دنیا میں ایک مسافرانہ زندگی اختیار کرنی چاہیے اور آخرت کو اپنا مستقل کا ٹھکانہ سمجھنا چاہیے ۔
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ- 9858109109)