یو این آئی
اٹلانٹا/فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں بدھ کو انگلینڈ اور ارجنٹینا ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے، جہاں ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے مشہور اور پرانی دیرینہ حریف میں سے ایک کا نیا باب رقم ہوگا۔ دونوں ٹیمیں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ورلڈ کپ کے اہم مرحلے میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں اب تک پانچ مرتبہ مدمقابل آ چکی ہیں، جن میں انگلینڈ نے تین جبکہ ارجنٹینا نے دو فتوحات حاصل کی ہیں، جن میں ایک کامیابی پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے ملی تھی۔ تاہم اس رقابت کی اہمیت صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی تاریخی اور جذباتی واقعات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ٹیموں کا سامنا 1962 کے ورلڈ کپ میں ہوا تھا، جہاں انگلینڈ نے گروپ مرحلے میں 3-1 سے کامیابی حاصل کی، لیکن ان کی اصل حریف 1966 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل سے شروع ہوئی۔
ویمبلے میں کھیلے گئے اس میچ میں انگلینڈ نے 1-0 سے کامیابی حاصل کی، تاہم یہ مقابلہ ارجنٹینا کے کپتان انتونیو راٹن کو ریفری کی جانب سے ریڈ کارڈ دکھائے جانے کی وجہ سے زیادہ یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ قدیم حریف اپنے عروج پر 1986 کے میکسیکو ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچی، جب ارجنٹینا کے لیجنڈ ڈیاگو میراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف دو یادگار گول کیے۔ پہلا متنازع گول، جسے بعد میں “ہینڈ آف گاڈ” کا نام دیا گیا، جبکہ دوسرا گول ورلڈ کپ کی تاریخ کے بہترین گولوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں میراڈونا نے کئی انگلش کھلاڑیوں کو ڈاج دیتے ہوئے گیند جال میں پہنچائی۔ ارجنٹینا نے یہ مقابلہ 2-1 سے جیت کر بعد میں عالمی خطاب بھی اپنے نام کیا۔1998 کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں ایک بار پھر ناک آؤٹ مرحلے میں ٹکرائیں۔ اس میچ میں ڈیوڈ بیکہم کو ڈیاگو سیمیونے کو لات مارنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا، جبکہ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ارجنٹینا نے 4-3 سے کامیابی حاصل کی۔ اس واقعے کے بعد بیکہم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعد میں سیمیونے نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔2002 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے بیکہم کے پنالٹی گول کی بدولت ارجنٹینا کو 1-0 سے شکست دی۔ یہ ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کا اب تک آخری مقابلہ تھا، جبکہ آخری بار 2005 میں جنیوا میں ایک دوستانہ میچ میں انگلینڈ نے 3-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ارجنٹینا کے عظیم اسٹار لیونل میسی، جن کا بین الاقوامی کیریئر دو دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے، کبھی بھی انگلینڈ کے خلاف کوئی میچ نہیں کھیل سکے۔ اب بدھ کو ہونے والے سیمی فائنل میں دونوں روایتی حریف ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے، جہاں فاتح ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائے گی۔