بلال فرقانی
سرینگر//جموں کشمیر میں ڈیری شعبے کی کارکردگی اور اس سے جڑے چیلنج ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران خطے میں دودھ کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم معیار کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2020-21میں 25.94 لاکھ ٹن دودھ کی پیداوار بڑھ کر 2024-25میں 29.74 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی، جو تقریباً 15 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس عرصے کے دوران پیداوار میں ہر سال مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ڈیری شعبے کی مضبوطی اور اس میں بڑھتی سرمایہ کاری کا اندازہ ہوتا ہے۔
تاہم معیار کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔ گزشتہ5 برسوں میں 42 ہزار سے زائد دودھ کے نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں سے7.4فیصد کی شرح سے 3,124 نمونے غیر معیاری یا مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔ ان میں زیادہ تر’’غیر معیاری‘‘ جبکہ کچھ نمونے مضر صحت بھی پائے گئے۔محکمہ فوڈ سیفٹی کی جانب سے ان خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں، جن کے تحت اسی مدت میں 7,387 سول مقدمات میں جرمانے عائد کیے گئے، جن کے تحت کروڑوں روپے وصول کیے گئے، جبکہ 82 فوجداری مقدمات میں جرمانے اور قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔کھپت کے اعتبار سے جموں و کشمیر ملک کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں دودھ کا استعمال قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں فی کس ماہانہ کھپت 9.52 لیٹر جبکہ شہری علاقوں میں 10.11 لیٹر تک ریکارڈ کی گئی، جو اس شعبے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ مویشیوں کی صحت، خوراک اور دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنایا جائے، کیونکہ یہی عوامل دودھ کے معیار پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ویٹرنری خدمات کو مزید مضبوط بنا کر نہ صرف پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ عوام کو معیاری اور محفوظ دودھ کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔حکام کے مطابق اگر ڈیری شعبے میں ترقی کے ساتھ ساتھ معیار کی بہتری پر بھی یکساں توجہ دی جائے تو یہ شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور دیہی روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔