فطرت نے انسان میں بے پناہ صلاحیتیں ودیعت کی ہیں اور ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہی اس کا فرض منصبی ہے۔ اسی سے وہ انسان بننے کا مستحق ہے۔ فطرت کا منشا بھی یہی ہے کہ انسان اپنے نمایاں کردار سے اپنی عظمت کو پا لے۔انسان کی عظمت اُس کے رتبہ، حیثیت، قوم، وطن یا نسل اور رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی فطرت کی بلندی کی وجہ سے ہے۔انسان کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس عظمت کو برقرار رکھنے کیلئے زندگی کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں سے بالاتر ہو جائے اور اپنے ذاتی نفع و نقصان سے بے نیاز ہو کر کسی بلند مقصد کے حصول کے لئے کوشاں رہے۔ اسی سے اس کی شخصیت استوار ہوتی ہے ۔
انسان میں تجسس کا مادہ فطری ہے،اسی تجسس نے اسے خلاء تک پہنچایا اور اسے زمین کی گہرائی میں بھی اتارا لیکن اس نے اپنی ذات کو دنیا کی بھول بھلیوں میں فراموش کر دیا۔اللہ کی زمین پر ان گنت مخلوقات ہیں مگر ان میں اشرفیت کا تاج انسانوں کے سر ہے۔مگر اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کرسکتے کہ حضرت انسان جس کو بشریت کا زریں لباس پہنایا گیا ہے وہ انسانیت کے تقاضوں کوپورا کرنے سے عاری رہا ہے ۔کبھی وہ خود اپنے خالق کی تخلیق سے انحراف کرتا ہے اور کبھی اس کی دی ہوئی آسائشوں کا انکار کرتا ہے۔ انسان یہیں نہیں رکتا ہے بلکہ بسا اوقات اس سے بھی آگے بڑھ کر انسانیت کے منافی وہ کام کر گزرتا ہے جو انسانیت کیلئے عار کا سبب ہوتا ہے اور انسانی مروت سے کوسوں دور۔ماضی قریب میں ہی دیکھ لیں ہاترس گینگ ریپ ،رسانہ کٹھوعہ میں 8سالہ کمسن لڑکی کی وحشیانہ عصمت ریزی و قتل ، ماب لنچنگ اور راجوری فرضی جھڑپ جیسے کتنے حادثات رونما ہوئے جس نے انسانی اقدار کو مجروح کر دیا۔ ہمارے معاشرے میں انسانیت دم توڑ چکی ہے۔ پہلے پہل جب کسی کا قتل ہوتا تھا تو دور دور تک خاموشی چھا جاتی تھی۔کہا جاتا تھاکہ شائد کہیں قتل ہوگیا ہے کیونکہ آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا۔ دل پسلیوں کے پنجرے میں پھڑپھڑاتا تھا لیکن آج ہر طرف خون کی نہریں بہہ رہی ہیں، کسی کی لاش نہر سے ملتی ہے تو کسی کی درخت پر لٹکی ہوئی ہوتی ہے۔ انسان نے اپنے اندر سے انسانیت کو اس طرح نکال پھینکا ہے جیسے ایک ننھے پودے کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہو بلکہ یوں کہا جائے کہ آج انسان صرف اپنے لئے جی رہا ہے اُس کی زندگی کا مقصد صرف اس کی اپنی ذات ہے۔
اگر ہم انسانیت کے لفظ کو اس کے معنی کے پیرائے میں دیکھیں تو جہاں اس کا مطلب ’ کردار کی عظمت‘ کی دلیل ہے وہیں اس کا دوسرا مطلب ’ عظیم ترین مخلوق کا احساس‘ ہے۔ آسان لفظوں میں انسانیت یہ ہے کہ جب کسی کا کردار برائی کی حدود کو چھونے لگتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کے اندر انسانیت ہی نہیں رہی۔بقول جگر مراد آبادی؛
آدمی کے پاس سب کچھ ہے مگر
ایک تنہا آدمیت ہی نہیں
انسان جنون میں سب سے پہلے انسانیت کھوتا ہے، یہ بھول جاتا ہے میں انسان ہوں اور میرے سامنے موجود لوگ بھی انسان ہیں اور ہم سب ایک جیسے ہیں، جنہیں بارش گیلا، دھوپ گرم ،برف ٹھنڈا، لوہا دکھی اور آگ جلا دیتی ہے مگر جنون میں ہم یہ تمام حقیقتیں فراموش کر بیٹھتے ہیں۔
انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس دلوں سے ختم ہو جائے تو معاشرہ، قوم اورملک سب تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ آج کے زمانے میں اپنی خرابیوں کو پس پشت ڈال کر ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے اصلیت تو یہ ہے کہ ہر شخص کے دل سے انسانیت کا احساس ختم ہو چکا ہے ۔انسانیت کی معراج کا شرف یہ تھا کہ انسان زندگی میں نظم و نسق اور اخلاقیات و صداقت کا پرتو دکھائی دیتا اور انسانیت کے لفظ کا لبادہ اس پر فخر کرتا مگر حضرت انسان اپنے اعمال کی وجہ سے جا بجا دیگر مخلوقات عالم سے بھی ارزاں ہو جاتا ہے۔ ہمارے اعمال کی سچائی اور ہمارا حسن نیت ہی ہوتا ہے جو ہمیں عزت و تکریم بخشتا اور لائق وفا قرار دیتا ہے۔ جب انسان اس دنیا میں بے ضمیری اور نفرت و کدورت کو دلوں میں پال لیتا ہے تو انسانیت کے رتبے سے گر جاتا ہے۔ انسانیت کا سب سے بڑا احترام یہی ہے کہ انسان کو انسانیت کی سطح سے نہ گرنے دیا جائے۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے آدمیت کو محض آدمی ہونا قرار نہیں دیا ہے بلکہ اس نے آدمیت کو احترام آدمی سے تعبیر کیا ہے کہ آدمیت اس چیز کا نام ہے کہ انسان آدمی کی عظمت کو پہچانے اور اس کا احترام کرے۔
آدمیت احترام آدمی
باخبر شو، از مقام آدمی
’ آدمیت، احترام آدمی کا نام ہے۔ اے انسان تجھے مقام آدمی سے باخبر ہونا چاہئے‘
انسان کی اصل انسانیت یہ ہے کہ وہ اپنے خیالوں کی تطہیر کرتا رہے۔ اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ہمارا ا نتخاب ہونا چاہئے ۔ہمیں جس سبق کو آج پڑھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ انسانیت ہے۔ بظاہر انسانیت ایک عام سا لفظ ہے مگر اس کو آس پاس کے ماحول کے مطابق سمجھا جائے تو یہ ایک سچائی کے کڑوے گھونٹ کی مانند ہے۔ آج دنیا تعلیم یافتہ لوگوں سے بھر گئی ہے مگر انسانیت سے خالی ہو گئی ہے پہلے دو لوگ لڑتے تھے تو تیسرا صلح کراتا تھا مگر آج تیسرا ویڈیو بنا کر پھیلاتا ہے۔ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو علم ہوتا ہے کہ انسانوں میں انسانیت معدوم ہوچکی ہے۔اکثریت کے دل پتھر ہی نہیںبلکہ اس سے بھی سخت ہو چکے ہیں۔ نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ ہمیں اپنی تکلیف تو تکلیف لگتی ہے مگر دوسروں کی نہیں۔ہمیں ہروقت اپنی خوشی کی فکر ہوتی ہے اور بعض اوقات تو ہماری خوشیاں دوسروں کا آرام و سکون تباہ کرکے حاصل ہو تی ہیں مگر ہم اس بات میں بھی کب شرم محسوس کرتے ہیں۔دوسروں کی تکا لیف ہمارے لئے روزمرہ زندگی کے معمو لی واقعات ہوتے ہیں جو ہم ایک کان سے سن کے دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔تعمیر انسانیت کیلئے انسان کے دل میں درد کا ہونا ضروری ہے۔دل کا نرم اورزندہ ہونا ضروری ہے۔ہمیں اگر معاشرے کی خیر مقصود ہے تو انسانیت کے سبق کو از سر نو پڑھنا ہوگا اور اس پر عمل کرنا ہوگا ورنہ بغض و عناد کی وجہ سے بستیاں ویران نظر آئیں گی۔