سرینگر //جموں و کشمیر پولیس ، فوج اور سی اے پی ایف کے کشمیر صوبہ افسران کا ایک اعلی سطح کا مشترکہ اجلاس پولیس ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہواجس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے کی۔ اجلاس میں کشمیر کے مجموعی سلامتی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سپیشل ڈی جی سی آئی ڈی جموں وکشمیر آر آر سوین، آئی جی بی ایس ایف کشمیر ڈاکٹر راجیش مشرا، اے ڈی جی پی (کارڈینیشن) پی ایچ کیو دنیش رانا، آئی جی (ایڈمن) سی آر پی ایف کشمیر دیپک رتن، آئی جی (آپریشنز) سی آر پی ایف کشمیر مس چرو سنہا، آئی جی پی کمشیر وجے کمار، بریگیڈئر 15کارپس پی کے مشرا، ڈی آئی جی سی کے آر امت کمار، ڈی آئی جی ایس ایس بی رنجیت سنگھ، انچارج ڈی آئی جی آئی ٹی بی پی سریش یادو اور ایس ایس پی سرینگر سندیپ چودھری ، رینج ڈی آئی ایس جی اور ڈسٹرکٹ ایس ایس پی کشمیر زون نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ شرکت کی۔ افسران سے خطاب کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے انسداد جنگجویانہ کارروائیوں میں حالیہ کامیابیوں اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو بہتر سیکورٹی ماحول فراہم کرنے کے لئے جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے رول کی سراہنا کی گئی۔ انہوں نے عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے فورسز کی مربوط کوششوں کو سراہا اور افسران کو ہدایت کی کہ سیکورٹی گرڈ کو مضبوط بنایا جائے ۔ ڈی جی پی نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کی سیکورٹی کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند اور سرحد پار سے ان کے آقا امن کو بگاڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے فورسز کو مزید چوکس رہنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عسکریت پسندی سے زیادہ موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لئے آپریشنل صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے لئے حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے لئے جدید الیکٹرانک آلات کا استعمال کرتے ہوئے فورسز کے مشترکہ آپریشنل مشقوں کی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ بالائی زمین کارکن جو جنگجویانہ کارروائیوں کو برقرار رکھنے اور مقامی نوجوانوں کی بھرتی میں بھی شامل ہیں ،ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے ماضی میں بھی اس طرح کے مختلف نیٹ ورکوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے اور مزید کہا ہے کہ افواج کے مابین اشتراک اور افواج کے مابین اس طرح کے مزید نیٹ ورکوں کو توڑنے میں مدد ملے گی۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں لوگوں کے تعاون سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ اجلاس میں شریک افسران نے اپنے خیالات کااظہار کیا اور موجودہ سیکورٹی صورتحال کے بارے میں ڈی جی پی کو بھی آگاہ کیا۔