جموں//دفعہ 35-اےپر پی ڈی پی کے رویہ کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما و سابق ممبرقانون ساز کونسل مرتضیٰ احمد خان نے کہاہے کہ اگرچہ آئینی اعتبار سے35-اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں لیکن مودی کے ہندوستان میں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ قانونی اعتبار سے اگر ایک شق کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا جائے تو باقی حصے بھی اس سے کی زد میں ہونگے لیکن جس ڈھنگ سے اور جس ماحول میں اس مقدمہ کی کارروائی کا آغاز ہوا ہے، کسی بھی حتمی نتیجہ کی توقع کی جانی چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ سے جموں و کشمیر کے خصوصی تشخص کو مٹانے کیلئے کوشاں رہنے والے اگر آج ریاست کی امتازی حیثیت کو زک پہنچانے کیلئے اگر کوئی سیاسی یا عدالتی مورچہ کھولیں تو یہ بات تعجب خیز نہیں ہونی چاہئے ۔اخبارات کے نام جاری بیان میں مرتضیٰ خان نے کہا’’ تقسیم ملک تک بلکہ الحاق کے بعد بھی ریاستی باشندگان کو مہاراجہ ہری سنگھ کے تفویض کردہ حقوق اور مراعات بڑی حد تک محفوظ تو رہے لیکن ان حقوق کے خاتمے کے لئے ایسی قوتیں بھی متواتر بر سر پیکار رہیں جو ریاست کی امتیازی آئینی حیثیت ،جھنڈے اورریاستی آئین کی نفی کرتے ہوئے ’ایک نشان‘ ’ایک سمبیدھان‘ کا نعرہ بلند کرتی رہیں، اس تحریک کے بانی شیامہ پرشاد مکرجی کے چیلے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے اگر آج جموں و کشمیر کے مستقل باشندگان کے خصوصی حقوق و مراعات کے خلاف کوئی سیاسی یا عدالتی مورچہ کھولیں تو کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے‘‘۔ان کاکہناہے کہ ماضی میں بھی ریاست کے مرکز کیساتھ آئینی تعلقات کو کئی مرتبہ عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جا چکا ہے لیکن عدالت نے ہمیشہ ریاست کی امتیازی آئینی حیثیت کو تسلیم کیا ۔پریم ناتھ کول اور سمپت پرکاش کے مقدمات میں دئے گئے فیصلے اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کے واضح موقف کی دلیلیں ہیں لیکن وقت اور حالات کبھی یکساںنہیں ہوتے۔ انکا کہنا تھا کہ پنڈت نہرو کے ہندوستان اور مودی کے بھارت میں فرق توہے۔مرتضیٰ خان نے کہاکہ مودی حکومت اور اسکے جماعت کا کشمیر کے تئیں موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن پی ڈی پی کا اسکی ہان میں ہاں ملانا ضرور معنی خیز ہے ۔سابق ممبر قانون ساز کونسل نے کہاکہ اس ساری صورتحال میں سب سے مضحکہ خیز با ت یہ ہے کہ موجودہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں دفعہ35-Aکا دفاع کرنے کے لئے چار وزراء کو اس کام پر مامور کر کے دہلی روانہ کیا ہے جو ریاستی عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے ۔انہوںنے کہاکہ وہ ان وزراء کے نام تو انہیں معلوم نہیںاورنہ ہی جاننے کی کوشش کی کیونکہ یقینا وہ اسی کابینہ میں سے ہی ہونگے جس کی ایک ٹیم گزشتہ بر س جب ریاست کے مفاد کے خلاف نافذ کئے جا رہے ایک مرکزی قانونFSRFAESI Act کے نفاذکو روکنے کیلئے دہلی گئی تو تھی لیکن اس ٹیم کی واپسی والا جہاز ابھی دہلی ایئرپورٹ پر ہی تھا کہ وہ قانون ریاست پر لاگو ہو گیا تھا۔مرتضیٰ خان نے کہاکہ دفعہ 35-A کے ضمن میں پی ڈی پی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ رویہ اور اسی تنخواہ پر کام کرتے رہنے کی خو کے حوالہ سے پارٹی کے سینئر رہنما ، معروف قانون دان اور سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ کے انکشافات چونکا دینے کیلئے یقینا کافی ہیں۔ ان کاکہناہے کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے 35-Aپر کابینہ سے متفقہ سفارش کی ناکام کوشش نے یہ تو واضح کر دیا ہے کہ دونوں حصہ دار متفق نہیں اور پھر بھاجپا کی قیادت کے غیر مبہم بیانات نے پی ڈی پی قیادت کی پول مزید کھول دی ہے۔کانگریس رہنماکاکہناہے کہ اقتدار کی بلی اور کیا کیا چڑھنے جا رہا ہے، بس اس کی تفصیل گنتے رہنا ہی ریاستی عوام کا مقدر ہے جبکہ پی ڈی پی کیا اورکیا ہی نیشنل کانفرنس ، اس حمام میں،سبھی ننگے ہیں ، قومی پارٹیوں سے گلا ہی کیا۔ انہوںنے کہاکہ تقسیم ہند سے قبل ریاست میں رائج ریاستی باشندہ قانون کے اعتراف میں14 مئی1954 کو دستورمیں شامل کر کے ریاست پر لاگو کیا گیایہ قانون در اصل ریاست جموں و کشمیرکے بھارتی وفاق کے ساتھ خصوصی آئینی رشتوں کی یہ ایک طرح سے آخری نشانی ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ باقی جو کچھ بھی تھا۔ انہوں نے اقتدار کی خاطر بیچ کھایا ہے جو اس کے تحفظ کے سب سے زیادہ دہائی دے رہے ہیں اور عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے عوامی جلسے ترتیب دے رہے ہیں۔