ڈوڈہ
دفعہ 35Aکے خلاف ہورہی سازشوں کے خلاف ڈوڈہ میں بھی ہڑتال رہی جس دوران تمام تعلیمی ادارے کاروباری ادارے دوکانیں بند رہی اور سڑکوں پر سے مسافر ٹرانسپورٹ بھی غائب تھا اور عدالتوں میں بھی کام کاج ٹھپ رہا۔ہڑتال کو بلا لحاظ مذہب وملت اور سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر حمایت حاصل رہی۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما خالد نجیب سہروردی کی قیادت میں ایک جلوس نکالا گیا جو قصبہ کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے اولڈ بس سٹینڈ ڈوڈہ میں اختتام پذیر ہوا۔ احتجاجی جلسہ سے خطاب کے دوران مقررین نے دفعہ مذکورہ کیساتھ کسی بھی طرح چھیڑ چھاڑ سے پیدا ہونے والی خوفناک صورت حال اور ریاست کی وحدت خصوصی شناخت کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے کا عزم دہرایا۔ خالد نجیب سہروردی نے کہا کہ 1947 میں جس ہندوستان کے ساتھ ریاست کے لوگوں نے دو قومی نظریہ مسترد کرتے ہوئے الحاق کیا تھا مگر ہم نے جس سیکولر ملک سے الحاق کیا تھا وہ آج کہیں نظر نہ آریا ہے۔ اور آج جس تنگ نظری تعصب کے ساتھ ہم کو دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں انہوں نے دفعہ 35 A کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہماری ضمانت و شناخت ہے اور دہلی حکومت نے بار بار ہمارے ساتھ دھوکہ بازی سے کام لیا۔ جلسہ سے ٹھاکر پچھتر سنگھ سیول سوسائٹی ڈوڈہ کے ترجمان اشتیاق احمد دیو و دیگر ان نے بھی خطاب کیا۔
رام بن
ایم ایم پرویز
رام بن میں دفعہ 35۔اے اور گول شہری ہلاکت کے خلاف مکمل بند رہا، جس سے معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ لوگوں نے بلا لحاظ سیاست احتجاج میں شرکت کی اور سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے ریلیاں نکالی۔مظاہرین دفعہ 35 ۔اے کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔تاہم ،حالات پُ رامن رہے اور کسی بھی جگہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ضلع انتظامیہ نے سیکورٹی کے سخت بند و بست کئے تھے اور تما م حساس مقاما ت پر سیکوٹی فورسز تعینات کئے گئے تھے۔
مختلف انجمنوں بشمول مساجد اور تجارتی کمیٹیوں نے بند کی کال دی تھی۔
بانہال
محمد تسکین
35 اے کے حق میں ضلع رام بن کے بیشتر علاقوں میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی دوسرے روز بھی متاثر ہو کر رہ گئی۔ جموں سرینگر شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال ، کھڑی ، رامسو ، مگرکوٹ ، گول سنگلدان میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری ادارے اور مقامی ٹریفک بند رہا جبکہ رام بن میں جزوی ہڑتال رہی اور ایک فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے 35 کے حق میں مکمل ہڑتال کی -مگر کوٹ سے نوگام بانہال تک پچیس کلومیٹر کے حصے پر واقع مگرکوٹ رامسو ، گنڈعدلکوٹ ، بانہال ،چریل ، ٹھٹھاڑ اور نوگام کی تمام مارکیٹیں اور دکانیں مکمل طور دوسرے روز بھی بند رہیں جبکہ ٹرانسپورٹ بھی متاثر رہا – بانہال کھڑی اور گول کے علاقوں میں بیشتر سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی ادارے ہڑتال کی وجہ بند رہے یا روزمرہ کی تعلیمی سرگرمیاں اثر انداز رہیں – ضلع بھر میں حکام نے فورسز کی اضافی نفری تعینات کر رکھی تھی تاکہ امن و قانون کی کسی بھی صورتحال سے نپٹا جاسکے ۔رام سو میں بھی مظاہرہ ہوا اور مقررین نے حکومت کے متنبہ کیا کہ وہ اس ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔ ہڑتال کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک کی معمول کی نقل وحرکت بھی متاثر رہی اور بہت کم گاڑیاں شاہراہ پر چلتی نظر آئیں۔ اس کے علاوہ شاہراہ کشمیر کی طرف جانے والی سیاحوں اور امرناتھ یاترا کی گاڑیوں کے چلنے پر روک تھی۔
کشتواڑ
آئی اے بٹ
کشتواڑ//ضلع کے متعدد قصبہ جات میں پیر کو دوسرے روز بھی ہڑتال رہی۔ اس ہڑتال کی کال مجلس شوریٰ کی طرف سے دی گئی تھی جس چناب ویلی ٹریڈرز ایسو سی ایشن کی بھی حمایت حاصل تھی۔ اس موقعہ پر تمام تجارتی ، نجی تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہی۔ انتظامیہ کی جانب سے ہڑتال کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اس موقعہ پر مقررین نے کہا کہ 1952 سے تاحال ہر بار ہم کو یقین دلانے کے بعد دھوکہ دیا گیا انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دفعہ A-35سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو حالات ہمارے ہاتھوں سے باہر جائیں گے۔ جس کے بعد کی صورت حال کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس وقت بھی A 35 ہٹایا گیا تو الحاق خود بخود ٹوٹ جائے گا اور نئے سرے سے الحاق کرنا پڑے گا۔ جس کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے تمام مکتب فکر کے لوگوں کی طرف سے بلالحاظ مذہب و ملت سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ہڑتال کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
کشتواڑ بار ایسو سی ا یشن
کشتواڑ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے بھی دفعہ35۔اے کے حمایت میں اپنی آواز بلند کی۔ایسو سی ا یشن نے بس اسٹینڈ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ ممبران نے اپنے اہتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے ،جن پر 35۔اے کے حق میں نعرے تحریر کئے گئے تھے۔مقررین نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس دفعہ کے ساتھ کسی بھی چھیڑ چھاڑ کے خلاف متحد ہو جائیں اور مرکزی سرکار سے انتباہ کیا گیا کہ اگر اس دفعہ کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اسکے تباہ کُن نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔اس سے قبل ایسو سی ایشن نے ایک قراد داد پاس کرکے دفعہ 35 ۔اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے خلاف عدالتوں میں کام و کاج معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔