یواین آئی
پوکھران (راجستھان ) // وزیر اعظم نریندر مودی نے راجستھان کے پوکھرن میں سہ فریقی خدمات کی لائیو فائر اینڈ مینیوور ایکسرسائز کی شکل میں دیسی دفاعی صلاحیتوں کا ایک ہم آہنگ مظاہرہ دیکھا۔ ’بھارت شکتی‘ میں ملک کی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیسی ہتھیاروں کے نظام اور پلیٹ فارمز کی نمائش ہوگی، جس کی بنیاد ملک کی آتم نربھر بھارت پہل ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج جس بہادری اور ہنر کی نمائش ہو رہی ہے وہ نئے ہندوستان کی کال ہے۔ “آج ایک بار پھر پوکھر ن ہندوستان کی خودانحصاری ، خود اعتمادی اور اس کی شان کے مثلث کا گواہ بن گیا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ وہی پوکھرن ہے جس نے ہندوستان کے جوہری تجربے کا مشاہدہ کیا تھا اور آج ہم دیسی ساخت کی طاقت کا مشاہدہ کر رہے ہیں‘‘۔گزشتہ روز جدید ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے اگنی میزائل کے ٹیسٹ فائرنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کی تصدیق کی کہ دنیا کے صرف چند ممالک کے پاس اس نئے دور کی ٹیکنالوجی اور صلاحیت موجود ہے اور اس بات پر زور دیا کہ یہ تجربہ دفاع کے شعبے میں آتم نربھرتا کے تاج میں ایک اور پنکھ ہے۔وزیر اعظم نے دوسروں پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ’’وکست بھارت کا خیال آتم نربھر بھارت کے بغیر ناقابل تصور ہے۔‘‘ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ آج کا موقع اس قرارداد کی طرف ایک قدم ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کھانے کے تیل سے لے کر لڑاکا طیاروں تک آتم نربھر بھارت پر زور دے رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دفاعی شعبے میں میں خودکفیل ہندوستان کی کامیابی کو ہندوستان کے ٹینکوں، توپوں، لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور میزائل سسٹم سے دیکھا جاسکتا ہے جو ہندوستان کی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جوش و خروش سے لبریز وزیر اعظم نے کہا “ہم اسلحے اور گولہ بارود، مواصلاتی آلات، سائبر اور اسپیس کے ساتھ میڈ ان انڈیا کی پرواز کا تجربہ کر رہے ہیں۔ یہ واقعی بھارت شکتی ہے’’۔ انہوں نے دیسی ساخت کیجن لڑاکا طیاروں، جدید ہلکے جنگی ہیلی کاپٹروں، آبدوزوں، تباہ کن جہازوں، طیارہ بردار جہازوں، جدید ارجن ٹینکوں اور توپوں کا بھی ذکر کیا۔دفاعی شعبے میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے کے اقدامات کی فہرست بناتے ہوئے وزیر اعظم نے پالیسی اصلاحات اور نجی شعبے میں شمولیت اور اس شعبے میں ایم ایس ایم ای اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اتر پردیش اور تمل ناڈو میں دفاعی راہداریوں کے بارے میں بات کی اور اس میں 7000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے بارے میں بتایا۔