پچھلے دو تین سالوں سے کووڈ19 نے ہماری زندگی کے شعبہ جات کا نقشہ ہی بدل ڈالاجن میں شعبہ تعلیم سرفہرست ہے۔حکومت کو کووڈ19 کے پھیلائو کو روکنے کے لئے سکول ،کالج اور یونیورسٹیاں بند کرنی پڑی۔صورت حال کی سنگینی کو کم کرنے کے لئے ایسے دور رس اقدامات کیے جارہے تھے جن سے روز مرہ کی زندگی میں زیادہ مشکلات سے لوگ ذہنی دبائوں میں مبتلا نہ ہوجائے۔ اس مہلک وبا کے بارے میں ہماری سوجھ بوجھ میں آہستگی کے ساھ تبدیلی آئی ہے۔زندگی گرزانے کے طور طریقہ بدل گئے۔جس میں شعبہ تعلیم بھی شامل ہے۔کووڈ کی وجہ سے تعلیم و تدریسی کو کافی نقصانات جھیلنے پڑے ۔ایسی خوفناک صورت حال میں تعلیم اور تدریس کے سلسلے کو قائم رکھنے کا واحد راستہ سائنس و تکینالوجی تھا جس کے سہارے سے بچوں نے آن لائن کی اور توجہ دے کر کس حد تک اپنی پڑھائی کو متاثر ہونے نہیں دیا۔ کووڈ19 کی ایسی سنگین صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے جموں وکشمیر کے بہت سارے نجی اور سرکاری اسکولوں،کالجوں اوریونیورسٹیوں نے ایک منظم طریقے سے آن لائن تعلیم کا آغاز کرردیا ۔ آن لائن تعلیم کی اہمیت اور افادیت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا ہے لیکن ہمیں اس بات پر بھی غور و فکر کرنی چاہیے کہ آن لائن تعلیم سے بچے کس طرح اپنے پڑھائی کو زیادہ سے زیادہ بہتر بناسکتے ہیںکیونکہ آن لائن کی افادیت کے ساتھ ساتھ اس کے خطرناک نقصانات بھی کچھ کم نہیں۔2021 میں بھی بچوں نے آن لائن کلاسز سے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے بعد سالانہ امتحان میں حصہ لے لیا۔
حال ہی میں دسویں اور بارویں جماعت کے ان بچوں کے نتائج کا اعلان ہو نیز وادی جنت بے نظیر کے بہت سارے نونہال امتحانات میں کامیاب ہوئے ہیں انہوں نے اپنے والدین اور اساتذہ کی عزت پہ کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔دسویں جماعت میں کامیابی کی شرح 78 فیصد سے زائد رہی جبکہ بارویں جماعت میں کامیابی کی شرح 75 فیصد رہی ۔ دسویں میں بھی اور بارویں جماعت میں بھی طالبات نے نمایاں کاکر دگی دیکھا طلباء کو پچھے چھوڑ دیا۔ اب ان کے والدین سے استدعا ہےکہ وہ اپنے بچوں کو کیر یر کے معاملات میں تنگ نہ کریں۔انھیں جس میدان (سائنس یا غیر سائنس )میں دلچسپی ہیںجانے دیں تاکہ مزید پڑھائی میں ان کی دل چسپی بر قرار رہے ۔دوسری اہم بات انھیں دینی علو م سیکھنے میں بھی پہل کریں کیونکہ تعلیم کا تب تک کوئی مقضد نہیں جت تک ایک طالب علم حق اور باطل میں فرق نہ کرسکے۔ اس لئے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچوں (بیٹا ہو یا بیٹی) کو ایسے ماحول میں نہ رکھیں جہاں پہ فتنہ وفساد کا گرم بازار ہو‘شر غالب ہو‘فسق وفجور عام ہواورشیطانی مرکزاکی بہتات ہو بلکہ انہیں ایسی جگہ پر بسائیں جہاں پہ اچھے لوگوں کی آبادی ہو‘علمی ماحول ہواور آداب زندگی کے مراکز ہو اتاکہ یہ نونہاں دارالعمل میں بھی کامیاب ہوجائے اور عالم بززخ میں بھی۔انھیں ایسی تعلیم سے آراستہ کریں، جن سے ان اخلاقی تربیت ہو۔ ؎
علم سنگ میلِ منزل علم جوش ِکارواں
علم ہر اک ضرورت مرو زن پیر وجواں
علم سِرّ وحدت ِحق علم بحر ِبیکراں
علم میراث نبوت علم آبِ تشنگاں
علم ساری رفعتوںکا نقطۂ آغازہے
عرش و کرسی سے بھی آگےعلم کی پروازہے
بچوں کو تعلیم کا اصل مفہوم سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ تعلیم کا مفہوم یہ ہے جس کے ذریعے لوگوں اپنے مخصوص عادات و اطوار ،ہنر اور حکمت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی وراثت کو محفوظ کر سکے۔ تکنیکی اصطلاح میںتعلیم سے مراد وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک صحت مند معاشرہ علم وادب ،ہنر وفن،روایات اور اقدار اکا درس دے کر صحت مند معاشرے کی تشکیل دے کر ایک مہذب قوم پیداا کرنے میں کامیاب ہوجائے۔مدرسہ اور اسکول میںدی جانے والی تعلیم و تربیت طلب علم کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے جو طالب علم اپنی عمر کے لحاظ موصول کرتا رہتا ہے۔ سب سے پہلے طالب علم کو ابتدائی تعلیم primary education کے حصول کی منزل سے گزرنا پڑتاہے ۔اس کے بعدپھر درمیانی تعلیم middle education کے روبرو ہونا پڑتا ہے۔اس کے بعد وہ اعلی تعلیم higher education کے راستے پر گامزن ہوسکتا ہے۔جو کہ طالب علم یونیورسٹیوں اور دیگر اعلی درسی اداروں سے میں داخلہ لے کر حاصل کر سکتاہے۔تعلیم کے معنی ، تعلیم کے مقاصد اور تعلیم کے اصول و صوابط کو سمجھنا ہر ایک فرد کے لئے لازمی ہے ۔ شعوری اور غیر شعوری طریقے سے حاصل کی جانے والی تعلیم انسانی زندگی کی ایک خاص عمل ہے۔یہ عمل پیدائش سے لے کر قبرستان تک انسانی زندگی کا ایک اہم کارنامہ تصور کے جاتا ہے اور اس عمل کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی غرص پہناں ہوتا ہے ۔چناچہ تعلیم اور عمل کے د رمیان ایک خاص رشتہ ہے ۔ تعلیم کے ذریعے موصول ہوئے تجربہ اور مشاہدے سے انسانی زندگی اور سماج کی اصلاح اور فلاح و بہبودی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے انسانی زندگی کا شعور پختہ ہونے کے ساتھ ساتھ پنپتا ہے۔وہ تاریخی ،تہذیبی، سماجی ،معاشی،اور معاشرتی تبدیلیوں سے اگاہ ہوجاتا ہے نیز ان تمام تبدیلیوںسے اپنے سماج اور اپنے آس پاس کوسنور سکتا ہے۔ اپنے افہام و تفہیم سے سماج کی خامیوں کا تدرک کرتے ہوئے ایک اچھی سوچ اور ایک اچھے معاشرے کی تتشکیل دے سکتا ہے۔سماج کی بدحالی اور سماج کی بیماریوں کو بہتر اور ساز گار علاج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سماجی زندگی سے وابستہ مختلف شعبوں کی تربیت اور ان کی تقدیر تعلیم کے ذریعے ہی بدل سکتی ہے ہے۔ ایک ا چھے ا ور صحت مند معاشرے کے لئے ایسا ضروری بھی ہے کیونکہ اس طرح سے ایک با شعور اور مہذب سماج جنم لیتا ہے جس کے افراد ا با شعور اورتہذیب یافتہ ہوں۔ معاشرہ ہر لخاظ سے خوش حال اور خوشگوار ہو۔ان کے پاس ایک اچھاخاصا نظام ہو اور زندگی گزارنے کا ایک اعلی درس دیتا ہو جس کی طرف علامہ اقبال ؔشارے کرتے ہیں کہ ؎
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے علم ہے سوز ِ دماغ
(رعناواری ،سرینگر،رابطہ۔8899037492 )