درسِ کربلا اور ہم

آج عالمِ انسانیت اُس عظیم قربانی کو یاد کر رہی ہے جب حضرت امام عالی مقام سیّدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محرم الحرام سنہ 61ھ میں اپنے بہتر اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین سمیت حق کی سر بلندی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ باطل کے علمبردار نظام حق کو مٹانے کی کوششیں کر رہے تھے۔ وہی نظامِ حق، جس کو آقا کریم حضور نبی اکرم ﷺ نے قائم فرمایا اور اپنے اصحاب کرام (رضوان اللہ علیہم) کو ایسی تربیت فرمائی کہ وہ اس کے مبلغ و محافظ بن گئے،جس نظامِ حق کو امانت سمجھ کر خلیفہ اوّل حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حفاظت فرمائی، جس نظامِ حق کو خلیفہ ثانی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے دنیا کے تین براعظموں تک پہنچایا، جس نظامِ حق کو خلیفہ ثالث حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان دے کر بچانے کی کوشش کی اور جس نظامِ حق کو مولائے کائنات حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم نے اپنی شہادت تک اغیار کے سازشوں اور شورشوں سے بچا کر رکھا۔ جس نظامِ حق کی حفاظت کی خاطر حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے صلح کو ترجیح دی، فاسق و فاجر یزید نے اسی ’’نظامِ حق‘‘ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے فسق و فجور اور باطل نظریات کو حق کے پردے میں پھیلائے۔ وہ اپنے باطل قبضہ اور باطل نظریات کی توثیق سربرآوردہ لوگوں سے چاہتا تھا۔ اُس کو ڈر تھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ رضی اللہ عنہم کبھی بھی اُس کی باطل حکومت تسلیم نہیں کریں گے۔ وہ اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو سمجھتا تھا۔ سیدنا حسین علیہ السلام کا مشن اِس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنے نانا جان ﷺ کی قائم کردہ نظامِ حق  یعنی خلافتِ اِلٰہیہ کی حفاظت کرنا ہے، جس کی حفاظت اور آبیاری میں خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اپنے 72 نفوسِ قدسیہ کی قربانیوں سے دینِ حق کو بچایا ہے اور آپ علیہ السلام نے شہادت کو قبول فرمایا لیکن یزید کی بیعت سے صاف انکار فرمایا۔
 امیر شریعت علامہ سیّد محمد قاسم شاہ بخاری ؒ (المتوفی: 2000ء) حضرت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کو اس طرح خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں:
 ’’اگر سادات کا نمونہ دیکھنا ہو تو شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے جانبازوں کی طرف دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے قرآن و سنّت کی عظمت و حُرمت اور اس کے بقاء و احیاء کے لئے کربلا کے میدان میں وقت کے سر کش اور مغرور انسانوں کے ساتھ ٹکر لے کر راہِ حق میں اپنی مقدّس جانیں نثار کیں مگر قرآن پر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم کے دینِ حق پر آنچ نہ آنے دیا۔‘‘
  آگے سیدنا امام عالی مقام علیہ السلام کے ساتھ تعلق جوڑنے والوں کو ان الفاظ میں سمجھاتے ہیں: ’’امام حسین ؓ نے سادات کرام کو اپنے عمل سے بتا یا کہ ربّانی قرب و مرتبہ سجادوں پر بیٹھ کر حاصل نہیں ہوتا بلکہ ربّانی قرب حاصل کرنے کے لئے اپنا ننگ و ناموس قربان کرنا پڑتا ہے۔ امام حسین ؓ نے تمام مسلمانوں کو عمومًا اور سادات عظام کو خصوصًا اپنے عمل، زہد، ایثار، قربانی، دینی جذبہ اور خدمت سے ہی نہیں بلکہ وقت کے جباروں اور سرکشوں کا مقابلہ کرکے تنبیہہ کی کہ حقیقی مسلمان کے لئے جان کی قربان دینا آسان ہے مگر دین کیخلاف، اسلام کے خلاف اور سنّت کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جاسکتی۔‘‘ (الارشادات النبویہؐ، علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ، صفحہ:33)
 قائدِ اہل سنّت حضرت علامہ سید محمد اشرف اندرابیؒ (المتوفی: 2016ء) واقعہ کربلا کے تناظر میں دورِ حاضر کے مسلمانوں کو اس طرح جھنجوڑتے ہیں: ’’کیا ہم نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ آج اسلام کو، محمد رسول اللہ ؐ کے اسلام کو، حسین رضی اللہ عنہ کے اسلام کو اور ہمارے پیارے اسلام کو پھر خطرات نے گھیرا ہے۔ یزید کی معنوی ذریّت کے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں، اسلا م کو پھر اپنے چاہنے والوں کے خون کی ضرورت ہے، روحِ حسین رضوان اللہ علیہ پکار پکار کر کہتی ہے: ’’میرے مقدس ناناؐ کا کلمہ پڑھنے والو! مجھ سے حیات جاودانی کا درس لینے والو! میں نے تم کو حق کے لئے سرفروشی کا گُر سکھایا تھا، خرمنِ باطل کیلئے برق بے اماں بننے کا طریقہ بتایا تھا، خنجر کے تلے پیغامِ حق سنانے کا اسوہ حسنہ دکھایا تھا، تم آج کہاں بھٹکتے پھر رہے ہو؟ بے شک تم آج سرفروشی کا مظاہرہ کرتے ہو، آج بھی اپنے خون کا نذرانہ پیش کرتے ہو، آج بھی اپنی جواں مردی کے جوہر دکھاتے ہو لیکن کس کے لئے؟ اپنے تراشیدہ بتوں کے لئے…… فرقہ واریت کے بُت، قومیتوں کے بُت، وطنیت کے بُت، ہوس اقتدار کے بُت، علاقائیت کے بُت، خود ساختہ سیاسی نظاموں کے بُت، غرض بے شمار بُت ہیں……. جن کی خاطر بھائی بھائی کا گلا کاٹتا ہے۔ اسلامی اخوّت و مروّت کے رشتوں کو پامال کیا جاتا ہے۔ غیروں کے ساتھ مل کر اپنوں کے خلاف جنگ کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے جس محبوب اور عظیم الشان پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کے تم امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اُس نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ان تمام بتوں کو اپنے پائے نازنین کے تلے روند ڈالنے کا اعلان فرمایا تھا۔ تم نے حبل اللہ (اللہ کی رسی) کو توڑ کر جسد ملت کے ٹکڑے کر دئیے، باہمی کشمکش میں مبتلا ہو کر فرعونیت اور یزیدیت کو اپنی صفوں میں در آنے کا موقع دیا، افسوس! آج تم کروڑوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود ننگ انسانیت صیہونیت کے لئے بازیچہ اطفال بنے ہوئے ہو، اغیار کی سازشوں کا شکار ہوکر تم خود اپنے ہی خون سے اپنے اوطان کو لالہ زار بنانے پر تلے ہوئے ہو، کل تک جو قومیں تمہارے اشاروں پر جبین رسائی کرنے پر فخر کرتی تھیں آج تم ان کے اشاروں پر ناچنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔‘
 آگے تحریر فرماتے ہیں:
 ’’آئیے! شہیدِ اعظم ؓکی اس پکار کو ایمان کے کانوں سے سنیں اور اپنی غفلت شعاریوں کے پردوں کو چاک کرکے چشم بصیرت سے اپنے حالات کا جائزہ لیں۔الٰہی فرمان وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا }آل عمران:۱۰۳{(اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہو اور الگ الگ مت ہو جاو۔) کی اساس پر ملت مرحومہ کی ازسرنو شیرازہ بندی کریں اور اسوہ حسینی ؑ پر عمل پیرا ہو کر تمام باطل قوتوں کو سرنگوں ہونے پر مجبور کریں، جبر و استبداد کے پنجوں میں جکڑی ہوئی انسانیت سراپا فریاد بن کر اپنے نجات دہندہ کی راہ تک رہی ہے اسی نجات دہندہ کی جس کے پاس امن و سلامتی اور حق و صداقت کے سب سے بڑے داعیؐ کی سند غلامی ہو۔ بقول اقبالؒ  ؎
ریگ عراق منظرہ، کشت حجاز تشنہ کام
خون حسین ؑ بازدہ کوفہ و شام خویش را‘‘
 (مقالات اندرابیؒ،  علامہ سید محمد اشرف اندرابیؒ، صفحہ: 33 تا 35)
 اللہ تعالیٰ ہم سب کو حسینیؑ مشن کی آبیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)