جموں وکشمیر میں باغ اردو کو سجانے سنوارنے اور نت نئے گل بوٹوں سے اس کی تزئین کرنے میں جہاں مرد ادباء اور شعراء پیش پیش ہیں وہیں دوسری جانب اس گلشن کی اپنی تخلیقات سے آرائش و زیبائش کرنے میں خواتین ادبااور شاعرات بھی اپنا مثبت کردار نبھا رہی ہیں۔ان خواتین ادبا اور شاعرات نے اپنی تحریروں سے نہ صرف اپنے احساسات و جذبات ،سوچ و فکر اور نسوانی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ فن اور ادبی معیار کا خیال رکھ کر اپنی بات کو بہترین انداز میں لوگوں کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔اس کوشش میں وہ کتنا کامیاب ہوئیں اس کا اندازہ ادبی حلقوں میں ان کے اعتبار کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے ۔نسوانی آواز شور میں جلد گم ہوجاتی ہے لیکن بعض نسوانی آوازوں کی گونج عالم میں سنائی دیتی ہے۔ان گونجنے والی آوازوں میں توانا آواز رخسانہ جبین کی ہے جس نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ادبی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور ادبی حلقوں میں ان کی آواز کو دھیان لگا کر سنا گیا۔کشمیر میں اردو شاعرات کی تعداد قلیل ہے جو یہاں کے ادبی منظر نامے کا حصہ ہونے ساتھ ساتھ ملکی اور بین الاقوامی سطح تک اپنی پہچان رکھتی ہیں۔جن شاعرات نے منفرد پہچان بنائی اور بطور شاعرہ عالم میں مشہور ہوئی ان میں رخسانہ جبین ایک معتبر نام ہے۔
رخسانہ جبین یکم مئی 1955ء میں خواجہ بازار سرینگر میں پیدا ہوئیں۔والد کا نام غلام نبی شاہ تھا۔آل انڈیا ریڈیو میں پروگرام ایگزیکٹیو کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا اور 2015 ء اسٹیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئیں۔چار زبانوں پر عبور رکھنے والی، تین زبانوں(فارسی ،اردو ،کشمیری) میں اپنے خیالات ،افکار ،احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ادبی حلقوں میں بحیثیت شاعرہ اپنی پہچان رکھتی ہیں لیکن تنقیدی مضامین اور ترجمہ نگاری میں بھی ان کا قلم روانی سے چلتا ہے۔یہ امر حیران کن ہے کہ اس معتبر شاعرہ کا اب تک کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا ہے۔ان شاء اللہ " چراغ چہرہ" کے عنوان سے جلد ان کا شعری مجموعہ منظر عام پر آئے گا۔کشمیری زبان میں اب تک ان کی ایک تصنیف 2014ء میں " وژھہ پرنگ" کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔یہ کتاب رتن سنگھ کی تصنیف " اڑن کھٹولہ" کا کشمیری ترجمہ ہے۔
شاعرات اکثر اپنی غزلوں اور نظموں میں اپنی ذات ، اپنے معاشرے،نسوانی مسائل ،عورتوں کے حقوق اور گھریلو مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے خطے کے تاریخی واقعات ،موجودہ حالات اور قدرت مناظر کو اپنی شاعری میں جگہ دیتی ہیں۔رخسانہ جبین نے بھی اپنی شاعری میں اپنی ذات،احساسات و جذبات ، تانیثی سوچ کو سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کیا ہے۔ان کا فطری میلان غزل کی طرف ہے۔زبان میں شفتگی اور روانی ہے۔ان کی غزلوں میں پیچیدہ اور مبہم استعارے نہیں ملتے بلکہ ان استعاروں اور علامتوں کو وہ اپنی شاعری میں برتی ہیں جن کا سماجی ، تہذیبی اور تاریخی پس منظر قاری کی سمجھ میں فورا آتا ہے اور قاری کو مفہوم کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑتی۔سنجیدہ اور منفرد شاعری کرتی ہیں۔یہ سنجیدگی انہیں شعور کی بالیدگی اور تفکر کی گہرائی نے بخشی ہے۔ریڈیو سے وابستگی کے سبب حالات حاضرہ سے آگاہ رہتی تھیں یہی وجہ ہے کہ نئے نئے موضوعات کو اپنی شاعری میں برتنا اس کے لیے آسان رہا۔فرید پربتی ان کے بارے میں اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ"ان کی شاعری میں فنی ارتکاز اور فکری تجدید کے ساتھ ساتھ عصری آگہی کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔وہ اپنی شاعری کو اعترافی رویوں تک محدود نہیں رکھتی ہیں بلکہ دیگر تجربات سے بھی اپنی شعری کائنات مزین کرتی ہیں"۔
جھوٹ وقتی طور پر فائدہ دیتا ہے اور انسان کو لگتا ہے کہ جھوٹ سے ہی وہ ترقی ،رتبہ اور ہر وہ شئے پا سکتا ہے جس کی اسے چاہ ہوتی ہے کیونکہ دنیا میں چہار سو جھوٹ اور مکروفریب کا بازار گرم ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں جھوٹے کا منہ کالا ہوا ہے۔اس موضوع کو رخسانہ جبین نے خوبصورت انداز میں باندھا ہے۔شعر ملاحظہ فرمائیں۔
دنیا میں دیکھا ہے ہر سو جھوٹ کپٹ چھل مکروفریب
اور یہ سننے میں آیا ہے کہ جھوٹے کا منہ کالا ہے
انسان جب کسی مصیبت میں پھنس جاتا ہے، کوئی نقصان اٹھاتا ہے تو اس پر بعد میں ماتم کرتا ہے۔بعض دفعہ ان مشکلات اور مصیبتوں کا انسان خود ذمہ دار ہوتا ہے جن کا اسے سامنا رہتا ہے۔رخسانہ جبین کا شعر ہے کہ ؎
کوئی سمجھا دے ساحل پر ماتم کرنے والوں کو
اپنی مرضی سے کشتی کو اس گرداب میں ڈالا ہے
زندگی کیا ہے اس سوال کا جواب اہل فکر نے اپنی بساط اور سوچ کے مطابق دیا ہے۔ جہاں فلسفیوں ، مفکروں اور دانشوروں نے اس سوال کی تشریح کی وہیں شعراء نے بھی اپنے طور اس سوال کا جواب دینے کی سعی کی ہے۔شاعر کے دیکھنے کا زاویہ مختلف ہوتا ہے اور وہ اپنی سوچ کے مطابق زندگی کا تجزیہ شعر کے ذریعے کرتا ہے۔زندگی کو ہم جتنی سادہ سمجھتے ہیں یہ اتنی ہی پیچیدہ ہے کیونکہ اس کے رنگ متنوع ہیں۔ہر فرد زندگی کی کہانی الگ سناتا ہے۔کچھ عشق کرنے کو زندگی کا حاصل مانتے ہیں تو کسی کا فرمان ہے کہ زندگی زندہ دلی کا نام ہے۔کوئی زندگی کو دھوپ میں نکلنے اور گھٹاؤں میں نہانے کا نام دیتا ہے تو کوئی زندگی کو مفلس کی قبا کہتا ہے۔کسی نے کہا کہ زندگی عناصر میں ظہور ترتیب کا نام ہے تو کسی نے زندگی کو چند امیدوں اور ارمانوں کا نام دیا ہے۔زندگی ایسا معمہ ہے جس کو ہر ایک اپنے طور سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔زندگی دیوانے کا خواب بھی ہے اور وہ کہانی بھی جو نہ سنی جا سکتی ہے اور نہ سنائی جا سکتی ۔رخسانہ جبین نے بھی اس سوال کا جواب دیا ہے۔ ان کا شعر ہے کہ ؎
اپنے اپنے طور پر اہل فکر نے اس کو سوچا ہے
میں بس اتنا کہتی ہوں کہ یہ موت کا اک نوالا ہے
یونان ہو یا مصر ،چین ہو یا عرب عورت ہمیشہ مظلوم رہی ہے۔اس کے ساتھ حیوانوں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔بعض شقی القلب اپنی عزت کی خاطر اسے زندہ درگور کرتے تھے، تو کبھی اسے اپنے مردہ شوہر کی چتا پر لیٹ کر خود کو زندہ شعلوں کے حوالے کرنا پڑا۔اسے گناہ کا سرچشمہ مانا گیا ،ناقص عقل اور حقیر سمجھا گیا۔یہ ٹیڑھی ہے کیونکہ یہ مرد کی ٹیڑھی پسلی سے نکلی ہے۔ان سب واقعات سے یہ احساس کمتری میں مبتلا ہوئی اور اس نے اپنے وجود پر سوچنا شروع کیا۔اس کے ذہن میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ میرا وجود ہے بھی یا نہیں۔رخسانہ جبین بھی اپنے وجود کے بارے میں سوچتی ہیں۔ ان کی غزل دیکھیں:
میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں
صدا تو دے کہ جانوں میں کہاں ہوں
یہی ہے فرق مجھ میں اور اس میں
یقیں ہے وہ تو میں بس اک گماں ہوں
زمیں سے آسماں تک شور کیسا
تو کیا سب کے لئے بار گراں ہوں
بہم اس کو فضائے آسمانی
میں گویا بند کمرے میں دھواں ہوں
میں پھوٹی اس کی پسلی سے تو ٹیڑھی
وہ سیدھا تیر جیسا میں کماں ہوں
خیال و خواب ہے وہ آب دریا
ترے صحراؤں میں ریگ رواں ہوں
کبھی الزام لگتا ہے یہ ہونا
نہ ہو کر بھی تو میں تہمت بجاں ہوں
دلیلیں ڈھیر ساری تو زمیں ہے
بہ ضد اس پر کہ تیرا آسماں ہوں
یہ دنیا دار بچے جانتے ہیں
مرے قدموں میں جنت ہے کہ ماں ہوں
رخسانہ جبین کی تخلیقات وادی کے معتبر اخبار و رسائل شیرازہ، کشمیر عظمی ، سنگرمال ، آئینہ ، نگینہ انٹرنیشنل کے علاوہ شب خون الہ آباد ، شاعر ممبئ ، بیسوی صدی نئی دہلی ،تناظرمالیگاؤں ،مہاراشٹر ، جوازنئی دہلی، مفاہیم گیا ،بہار ،نئی صدی وارانسی ،جہات ،ذہن جدید اور کسوٹی میں اہتمام سے شائع ہوتی ہیں۔
رخسانہ جبین اردو کی ترقی و فروغ کے خواہاں تنظیموں اور اداروں سے بھی وابستہ ہیں۔ ریاستی کلچرل اکیڈیمی کی سب ایڈوائزری بورڈ کی ممبر ،گلوبل ایسوسی ایشن آف ویمن تہران ایران کی ممبر ،سابق ایڈوائزری بورڈ ساہتیہ اکادمی کی ممبر ، سابق ممبر ایڈوائزری بورڈ نیشنل بک ٹرسٹ ، ممبر اسٹیڈیز کونسل ڈسٹینس ایجوکیشن سنٹرل یونیورسٹی رہ چکی ہیں۔
رخسانہ جبین نے دسمبر 2017 ء میں ایران میں عالمی وحدتِ اسلامی کانفرنس میں شرکت کی ہے۔2018ء میں ورلڈ ویمن کانفرنس پاکستان میں بھی شرکت کی۔قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کرنے کے علاوہ رخسانہ جبین نے 2018 ء میں قومی سطح کا دو روزہ سیمینار " جشن نسائی ادب " کے عنوان سے سرینگر میں منعقد کیا۔اپنی تخلیقی صلاحتیوں کی بنا پر آپ کو انعامات اور ایوارڈ بھی ملے ہیں۔ آپ کو نگینہ انٹرنیشنل ایوارڈ، ویمن اکسیلنس ایوارڈ ، ہندی کاشمیری لٹریری سنگم ایوارڈ ، بخشی میموریل ایوارڈ ، خلیٹ حنفی ایوارڈ ملے ہیں اور ڈپارٹمنٹ ٹورازم جموں و کشمیر نے آپ کو توصیفی سند سے بھی نوازا ہے۔رخسانہ جبین صدیوں سے چاند کے تعاقب میں ہے۔امید ہے کہ سورج ان کا پیچھا چھوڑ دے گا اور جس چاند کے تعاقب کر رہی ہیں وہ انہیں مل جائے گا۔
میں تعاقب میں ہوں کسی چاند کے صدیوں سے
میرا تب ہی سے تو کرنے لگا پیچھا سورج
رابطہ: 8493981240