عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//اسلامک یونیورسٹی میں خیبر سیمنٹ کی سرپرستی میں منعقدہ دو روزہ کانکلیو کے دوران جموں و کشمیر کی پہلی باقاعدہ انسدادِ منشیات پالیسی دستاویز کی بنیاد رکھ دی گئی۔یہ ورکشاپ 4 اور 5 مئی کو ڈرگ فری سوسائٹی: اجتماعی اقدام کی ضرورت کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کا اہتمام آئی یو ایس ٹی کے سینٹر فار گڈ گورننس اینڈ پالیسی اینالیسس نے وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو کی قیادت میں کیا۔ یہ پروگرام قومی مہم نشہ مکت بھارت ابھیان کے مطابق تھا، جس میں پالیسی سازوں، طبی ماہرین، اساتذہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، نوجوان نمائندوں اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں منشیات کی لت صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے، جو گھروں، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں کو متاثر کرتا ہے۔خیبر سیمنٹ کے نمائندوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات بشمول نجی شعبے کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔