گزشتہ دو تین برسوں سے وادیٔ کشمیر میں خود کشی کی بیماری نے ایک وبائی صورت اختیار کرلی ہے،ممکن ہے کہ خود کشی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے زیادہ سے زیادہ دنیاوی ساز و سامان کا حصول ،روٹی روزی کی کشمکش کی مجنونانہ دوڑ اور مقاصد زندگی کے پیچھے انسان کے بے لگام جذبات بھی ہوں لیکن آئے دن یہاں رونما ہونے والے ایسے واقعات کا ایک بڑا سبب پچھلے تیس برس کے وہ نامساعد حالات بھی ہیں جن کے باعث یہ مجبور و محکوم قوم ذہنی کشیدگی کے ایک لاعلاج مرض میں مبتلا ہوچکی ہے۔یہ مرض اس بستی کو گذشتہ تین دہائیوں میں کووِڈ۔۱۹ سے کئی گنا زیادہ نقصان پہنچا چکا ہے ۔بے کاری ،غربت و افلاس اور طرح طرح کی جان لیوا بیماریاں اسی ذہنی کشیدگی کی پیداوار ہیں ۔خوف و دہشت ،مایوسی ،نِت نئے کالے قانون کا نفاذ ،گولیوں کی گھن گرج میں بھلا انسانی زندگی کبھی پروان چڑھ سکتی ہے؟ ظُلم و ستم کی ایسی ایسی کہانیاں سُننے اور خوف و ڈر کے ایسے ایسے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ روح تک چیخ اٹھتی ہے۔لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جبرو قہر اور ظلم و ستم کی کوئی بھی انتہاحقائق کی پردہ پوشی نہیں کرسکتی۔
اگر انسان کسی ایسی مُصیبت میں گرفتار ہوجائے کہ و ہ اپنے پورے وجود ہی کو خطرے میں محسوس کرے تو وہ کیا کرے؟کیا وہ خوف کو اپنے دل پر مسلط کرکے حالات کی آندھی کو آزاد چھوڑدے گا تاکہ وہ اُسے اِدھر اُدھر لے جاکر پھینک دے یا وہ پورے سکون اور پامردی سے کام لے کر صحیح فکر کے ذریعہ اُن حالات کے شکنجوں سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرے گا ؟ مفکرین ،دانشوروں اور ماہرین ِ نفسیات کے مطابق ایسے حالات کا شکار انسان اپنے دل سے پوچھے گا کہ زیادہ سے زیادہ بدتر امکان کیا پیش آسکتا ہے،پھر اپنے دل کو اُس بدترین امکان کے لئے سب سے آخر پر جو کچھ بچانا ممکن ہو، اُسے بچانے میں لگ جائے گا ۔دین اور عقل بھی یہی طریقہ بتاتے ہیں ۔ادب میں ایسے بے شمار واقعات محفوظ ہیں جن میں آزمائشوں کا سامنا کرنے اور عزت و مردانگی کو مجروح کئے بغیر اُن سے نکلنے کی کوششوں کے بہادرانہ کارناموں کا ذکر ملتا ہے۔ذہنی کشیدگی کا سب سے بُر ا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم کردیتی ہے۔کشیدگی کا شکار ہوکر ہمارے خیالات پراگندہ ہوجاتے ہیں اور ہم صحیح فیصلے نہیں کرپاتے ۔اگر ہم بدترین صورت حال کے لئے ذہن کو تیار کرتے اور کسی طرح کے نتائج برداشت کرنے کی بھی تیاری کرتے تو ہم یقیناً صحیح فیصلے کرکے اس سے نجات کار استہ نکال لیتے۔بے شک جو انسان مشکل ترین حالات میں بھی خود پر قابو رکھتا ہے اور صورت حال پر غور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ آخر کار اچھے انجام تک پہنچ جاتا ہے،اگر کوئی مصیبت پیش آئے یا آنے والی ہو تو ہم اپنی ذہنی سلامت روی کھو کر کیا پائیں گے؟کیا آندھی سے فرار ممکن ہے؟انسان ہمت و استقلال سے کام کیوں نہ لے ،خطرات کی صوت میں ذہن بیدار رہے اور انسان اپنا حوصلہ نہ کھوئے تو خطرات سے نجات کے راستے تلاش کرنے میں وہ ضرور کامیاب ہوگا ،اسی لئے پیارے نبیؐ فرماتے ہیں کہ ’’صبر اور پامردی پہلے جھٹکے کے وقت ہی ہونی چاہئے۔‘‘
انسان کو کچھ خوفناک مصیبتوں کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے اور وہ اپنی ذہنی کشیدگی کی وجہ سے بس اُن کا انتظار کرتا رہتا ہے اور یہ انتظار موت سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے،اُس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوتی ہے اور بعض اوقات اُسے کھانا پینا بھی اچھا نہیں لگتا ۔اگر غربت کا خوف طاری ہے تو ہ عین غربت کی حالت ہے اور ذلت کاخوف خود ذلت ہے،یہ ایک بھاری غلطی ہے۔انسان کو ڈر رہتا ے کہ اُس کے چہیتے اُس سے جدا نہ ہوجائیںیا کوئی ایسی مصیبت نہ آئے جو برداشت سے باہر ہو لیکن دونوں صورتین آسانی سے جھیل لیتا ہے ۔انسان کو حقیقت تسلیم کرنے کے لئے خود کو تیار کرلینا چاہئے،جو کچھ پیش آچکا ہے اُسے تسلیم کرلینا ہی مصیبتوں پر قابو پانے کے سلسلے میں پہلا قدم ہے۔بے شمار لوگ غم و غصہ سے اپنی زندگیوں کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں کیونکہ وہ تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور از سر نَو اُمیدیں قائم کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے ماضی کے ساتھ تلخ کشمکش اور نہ ختم ہونے والی ذہنی کشیدگی میں مبتلا رہتے ہیں۔ناکام ماضی پر حسرت کرتے رہنا اور شکستوں اور تکالیف پر روتے رہنا اسلام کی نگاہ میں اللہ تعالیٰ کے انکار اور اُس کی قضا و قدر پر ناراضگی کے مترادف ہے۔ایمان کی منطق یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان تمام مصائب بھول جائے اور نئے سرے سے ایسی زندگی شروع کرے جو اُمید سے قریب تر اور عمل و اقدام سے بھرپور ہو۔صحیح ایمان انسان کو ٹھوس بناتا ہے اور وہ ہر آندھی کے ساتھ جھُکتا اور گرتا نہیں۔جو لوگ اچانک پیش آنے والی مصیبتوں میں دہشت کا شکار نہیں ہوتے اُن کے دل ایسے ہوتے ہیں جو کسی بھی کھوئی ہوئی چیز کو معمولی نقصان قرار دے کر انہیںثابت قدم رکھتے ہیں اور مصائب و مشکلات کی سیاہ راتوں کے پردے وہ اسی احساس و شعور کے سہارے چاک کر پاتے ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کہ نفسیاتی طاقت مشکلات کو شکست دینے میں موثر کردار ادا کرتی ہے اور اس سے تکلیف کو آسان کرنے،دشواریوں کو دور کرنے اور زندگی کے معرکوں میں کامیاب ہونے میں مدد ملتی ہے لیکن جس بھیانک غلطی کی طرف ہماری بہت کم توجہ ہے وہ یہ ہے کہ موت عدم ِمحض نہیں ہے اور نہ یہ زندگی بس یہیں ختم ہوجاتی ہے ،یہ سراسر جھوٹ ہے ،لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ موت ایک مرحلہ ہے جس کے بعد اس زندگی سے زیادہ طویل اور وسیع زندگی شروع ہوگی،ایسی زندگی جس کے مقابلے یہ دنیاوی زندگی محض ایک کھلونا اور تماشا ہے ۔افسوس ہے کہ بہت سے لوگوں میں یہ احساس کہ موت مطلق فنا کا آغاز ہے رائج ہے اور خود کشی کرتے وقت اُن پر یہی احساس غالب رہتا ہے۔جب وہ غم و الم سے نہایت تکلیف محسوس کرتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ موت انہیں ہر تکلیف سے نجات دے گی،اُنہیں یہ تلخ حقیقت معلوم نہیں کہ زندگی تو باقی رہے گی ،بس اس کا موجودہ ڈھانچہ بدل جائے گا اور موت کے بعد تو انسانی وجود کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا جس میں اس سے زیادہ شعور و احساس ہوگا ۔موت تو اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف منتقلی کا نام ہے اور اس دنیا کو زندگی کا آخری مرحلہ سمجھنا خرافات پر مبنی ہے۔
انسان حقائق سے زیادہ ادہام سے آزمائش میں مبتلا رہتا ہے اور زندگی کے حقائق سے پہلے خود اپنے اندر سے شکست کھا جاتا ہے ۔ہم حقائق پر کم ہی توجہ دیتے ہیں جبکہ حقائق کو جاننا لازمی ہے۔انسان حقائق کو پہچاننے میں دھوکہ کھاکر ہی زندگی کے مسائل کے صحیح حل تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔انسانوں کی کوششوں کو خوبیوں اور فضیلتوں کو فراموش کرنے،دوستیوںکو تباہ کرنے اور مہذب انسانوں کو تیز ناخون اور دانتوں والے درندوں بنانے کے لئے نہیں ہونا چاہئے کہ پوری دنیا درندوں کی چیر پھاڑ کی آما جگاہ بن کر رہ جائے۔اپنے خیالات اور جذبات کو الگ الگ رکھ کر اور غیر جانبداری کے ساتھ ہی خالص حقائق تک پہنچا جاسکتا ہے۔اہل عقل و دانش کے مطابق قوموں کی بھلائی اسی میں ہے کہ زندگی کا سامنا خوش دلی اور اُمید سے بھرپور انداز میں کریں تاکہ وہ اپنے وقت اور دولت سے فائدہ اٹھاسکیں اور یہ بھی اقوام کا حق ہے کہ اُن کے رہنما انہیں مایوسی ،بے چارگی اور نامرادی سے بچایں کیونکہ اس طرح کے احساسات انہیں وقت سے پہلے موت سے دوچار کردیتے ہیں ۔کوئی بھی ذی ہوش شخص خوشدلی سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی صاحب ایمان مایوسی اور نامرادی کی طرف مائل ہوسکتا ہے۔ہاں! بعض اوقات انسان ایسے حالات سے دوچار ہوتا ہے جو اُس کا سکون و اطمینان چھین لیتے ہیں ،ایسی صورت میں اُسے اللہ تعالیٰ کی مہر بانی پر بھروسہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہئے کیونکہ فکرو غم کے سامنے خود سُپرد گی کی قوت ِ ارادی کی مکمل شکست کا آغاز بن جاتی ہے اور سارے کام ٹھپ ہوجاتے ہیں ۔مطمئن شخص ممنونیت کے ساتھ اپنے رب کی طرف دیکھتا ہے اور اُس میں خشوع کا جذبہ ہوتا ہے جبکہ مصائب پر صبر کا دعویٰ کرنے والا انسان ایک طرح سے مصائب کو چیلنج کرتا ہے اور اپنے آپ کو اُن سے طاقتور سمجھتا ہے اور خود کو بڑا سمجھنا ہی دل کی شدید آفتوں میں سے ہے ۔کون نہیں چاہتا کہ وہ احسان کا بندہ رہے نہ کہ امتحان کا لیکن کیا زمانہ ہماری مرضی کے تابع ہے؟ کتنی ہی آندھیاں چلتی رہتی ہیں جو ہمارے خرمن امن و سکون کو تہہ و بالا کردیتی ہیں ،انسان کو کتنے ناپسندیدہ حالات کا سامنا ہوتا رہتا ہے ،ایسی صورتوں میں صبر کا مرحلہ آتا ہے جو گھبراہٹ دور کرے اور راضی بہ رضا رہنا سکھائے۔ہمیں زندگی میں پوری ذہانت کے ساتھ اپنے موقف کا جائزہ لینا چاہئے اور بغیر کسی روکاوٹ کے اپنے مستقبل کی راہ ِ عمل طے کرنی چاہئے اور بھروسہ رکھنا چاہئے کہ اللہ تالٰ ہم سے یہی اقدام چاہتا ہے ،وہ بزدلوں کو ناپسند کرتا ہے ۔اسلامی نقطۂ نگاہ سے خود کشی نہ صرف بزدلی ہے بلکہ ایک کبیرہ گناہ بھی ہے ،جس کی سزا دوزخ کے لپکتے شعلوں کے سِوا کچھ بھی نہیں۔
رابطہ۔احمد نگر سرینگر
موبائل نمبر۔9697334305